9

*بجٹ 2026۔2027 پیپلز پارٹی متحرک* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

*بجٹ 2026۔2027 پیپلز پارٹی متحرک*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

بحیثیت صحافی میری کسی بھی سیاسی جماعت اور حکمران سے ذاتی عناد یا رغبت نہیں کیونکہ میں اپنے منصب کے تحت حقائق و سچ پر مبنی خبریں اور تجزیئے پیش کرتا چلا آرھا ھوں جس سے کچھ جذباتی سیاسی کارکنان نالاں بھی رہتے ہیں اور سنجیدہ بردبار تنقید کو اصلاحی پہلو سے دیکھتے ہوئے سدھار کی جانب بڑھتے ہیں یہی جمہوریت کا حس اور تقاضہ بھی ھے۔ آج جبکہ کراچی بھر میں ایک منظم اور طے شدہ عمل کے تحت سندھ حکومت کو نشانہ بنایا جارھا ھے اس میں سچائی تو ضرور ھے مگر کچھ مفاداتی عناصر اپنے مفاد میں لے جانا چاہتے ہیں آج کراچی سمیت سندھ بھر کی تنزلی کے ذمہدار یہ سب کی سب سیاسی جماعتیں ہیں کوئی ایک نہیں۔ ان سب کو چاہئے کہ ذاتی اختلافات کو ایک جانب رکھتے ہوئے اجتماعی امور کو سیادی و ذاتی مفادات سے بالاتر رکھتے ہوئے عوامی خدمات پر توجہ مرکوز رکھیں۔ چند روز میں بجٹ دوہزار چھبیس ۔ دو ہزار ستائیس کی آمد ھے خوش آئند بات یہ ھے کہ موجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے سخت ترین حکم پر سندھ بشمول کراچی میں ترقیاتی امور کو تیز اور معیار کیساتھ پائے تکمیل کی ہدایات جاری کردی ہیں ان میں کراچی وسطیٰ جو عرصہ دراز سے سندھ حکومت کی توجہ سے محروم رھا ھے اب خاص طور پر ترقیاتی امور عوام کو دیکھنے کو ملیں گے ان میں جہاں گلی محلوں سڑکوں اور شاہراہوں کی مرمت اور نئی کارپیٹنگ شامل ہیں وہیں پانی کا ہر دوسرے روز فراہمی کا سلسلہ بھی ہمیشہ کی بنیاد پر شروع کردیا جائیگا خاص طور پر سب سے زیادہ متاثر ھونے والا حصہ ناگن چورنگی تا انڈہ موڑ (شادمان ٹاؤن فلیٹس) ھیں۔ خبر ملی ھے کہ نئے بجٹ کے سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس ھوا ھے جس میں پانی اور نکاسیٔ آب کی اسکیموں کے لیے 8.825 ارب روپے منظور کرلئے گئے، مالی سال 2025-26 کی 16 اے ڈی پی اسکیموں کے لیے فنڈز بھی جاری کئے، کراچی میگا پروجیکٹ کے تحت 11 بڑے نان اے ڈی پی منصوبے منظور ہوئے۔ کراچی کے انفرااسٹرکچر منصوبوں کی مجموعی لاگت 11.198 ارب روپے مقرر ہوئی، حاجی ابراہیم عیسٰی، حاجی کیمپ اور کورنگی لنک روڈ بحال کی جائے گی، کورنگی کریک ایئربیس اور گلزارِ ہجری جناح ایونیو توسیعی منصوبہ منظور کیا، پاور ہاؤس چورنگی نارتھ کراچی پر بڑے پل کی تعمیر کی منظوری کی گئی، کے فور چورنگی سرجانی ٹاؤن پر جدید فلائی اوور بنایا جائے گا جبکہ درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر اور لعل باغ کی بحالی کا منصوبہ بھی منظور کیا۔ سندھ حکومت کو قدرتی گیس کی بارہ اعشاریہ پانچ فیصد رائلٹی گیس کی صورت میں وصول ہوگی، نئے رائلٹی نظام سے سندھ کو سالانہ چھبیس ارب روپے فائدہ متوقع ھے۔ انٹیگریٹڈ ہیلتھ سروسز کے لیے تین سو پچانوے ملین سے زائد کی رقم منظور کی گئی۔ سندھ نرسنگ ورک فورس اسٹریٹجک پالیسی دو ہزار چھبیس تا دو ہزار چالیس کی بھی منظوری ہوئی۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے لیے پچاسی کروڑ کے جدید آلات منظور کئے۔ اپنے معزز قارئین کو واضع کراتا چلوں کہ یہ بجٹ اور یہ سال پاکستان ہیپز پارٹی کیلئے زندگی و موت جیسا ھے اگر اس بار وزیراعلیٰ سمیت تمام وزراء و مشیران اور میئر نے تسلی بخش عوامی خدمات پیش نہ کیں تو انہیں ان اہم ترین ذمہداریوں سے علیحدہ کرکے سندھ کی دیگر سیاسی جماعتوں سے کام لیا جاسکتا ھے گویا اب واضع ہوچکا ھے کہ پی پی پی اپنی نااہلی کرپشن اور لوٹ مار کے سبب اپنا سیاسی اثر و رسوخ نوے فیصد کھوچکی ھے اس دس فیصد کو بڑھانا ہی اس کی بقاء و سلامتی ثابت ہوسکتی ھے۔ اب آنے والا ہی وقت بتائیگا کہ پی پی پی گڈ گورنرنس پیش کرتی ھے یا بیڈ گورنرنس۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں