12

عنوان. وہ رو پڑا تھا تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور

عنوان. وہ رو پڑا تھا
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
یہ رونا بھی ناں کسی بھی وبال جان میں ایک اکسیر کی سی حیثیت رکھتا ہے، جیسے بارش کے بعد ماحول کی ساری کالک اور گرد و غبار دھل جاتا ہے بالکل ایسے ہی رونے سے جسم و جان کے سارے کمروں، دریچوں، راہداریوں، باغ باغیچوں کی صفائی ہی نہیں بلکہ دھلای بھی خوب ہو جاتی ہے، رونے سے غموں اور دکھوں کی میل ہی نہیں دھلتی، تن من ہلکا پھلکا ہو کے کسی پتنگ کی طرح ہواوں میں اڑنا شروع ہو جاتا ہے، وہ ایک صحرای گاوں تھا، جہاں قحط کے اثرات ہر فرد کے چہرے سے عیاں تھے، دھنسی ہوی آنکھیں، ہنسلی کی نمایاں ہڈیاں اور استخوانی جسم اس بات کے غماز تھے کہ جسم و جان پہ بھوک کا عذاب پورے طمطراق سے اتر چکا ہے، مگر عجب مزاج کے لوگ تھے اگر کھل کے ہنستے نہ تھے تو کھل کے روتے بھی نہ تھے اوردکھ کی اس کالی بکل نے انھیں اندر باہر سے بھسم کر چھوڑا تھا، بڑی عید کی آمد آمد تھی، لوگ باگ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف تھے ایک بندہ غریب غرباء کو کپڑے اور پیسے خیرات کر رہا تھا، اسے ایک لاغر سا چالیس، پینتالیس سالہ شخص اپنی. طرف آتا دکھائی دیا اس نے اسے روکا اور کہا کیا آپ کو کچھ کھانے کو چاہییے یا پھر کپڑے چاہیے ، غیرت مند شخص منہ ایک طرف کر کے ہچکیوں کے ساتھ رو پڑا، ہاے ہاے ہاے ،یہ غیور مرد روتے کہاں ہیں؟؟؟؟ ؟ان کا صبر ہمالے کی بلندی کو بھی کاٹ پھینکتا ہے، ہاں دل کو کءی روگ لگا کر یہ دل کے ہسپتالوں کی ایمرجنسی کو شاد و آباد ضرور رکھتے ہیں. تو مجھے وہ روتا ہوا مرد کسی فرشتے جیسا پاکیزہ اور کسے بچے جیسا پاکیزہ لگا. جس کی جیب میں اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کو بھی پیسے نہ تھے، اسے تو میں نے کپڑے اور روپے دے دییے لیکن میرا دل غم کی ایک ایسی دلدل میں ڈوب گیا جہاں بھوک تھی، سوگ تھا. اور خوف تھا.
. میری آنکھوں سے وہ منظر جاتا نہیں اور میں بجھے دل کے ساتھ ساری دنیا کے مردوں کی خوشحالی کے لیے تہہ دل سے دعائیں کرتی ہوں.
کدی ویلا لگ نہ جاوے
تے کسے گھر چ ڈیرہ پاوے نہ
کج وی ساتھوں چھٹ جاوے
کوی رووے نہ کسے وی ویلے
کوی غنچہ اینج کملاوے نہ
تو غور فرمائیے گا اپنی آنکھوں کے پیچھے روشن، چمکدار شمع سے چپکے چپکے یہ ضرور پوچھیے گا کہ مرد نہ رو کے، اپنے دکھوں پہ پردہ ڈال کر آپ پہ، اپنے گھر والوں پہ اور معاشرے پہ کتنا بڑا احسان عظیم کرتا ہے اور اپنے احساسات، اپنے جذبات اور اپنی ذات پہ بہت بڑا ظلم کرتا ہے.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور drpunnamnaureen@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں