10

رپوٹ عبدالعزیز شیخ کوئلے کی کانوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی بے حسی کے خلاف

رپوٹ عبدالعزیز شیخ

کوئلے کی کانوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی بے حسی کے خلاف انسانی حقوق تنظیم کی احتجاجی آواز
ٹھٹھہ (رپورٹ)
جھرک، جھمپیر، میٹنگ اسٹیشن اور اونگر کے علاقوں میں قائم کوئلے کی کانوں میں مسلسل پیش آنے والے حادثات کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع پر سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی بے حسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں کوئلے کی کانیں سرگرم عمل ہیں، جہاں حفاظتی انتظامات کے فقدان کے باعث حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ متعدد واقعات میں مزدور کانوں کے اندر دب کر یا زہریلی گیس کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ کئی واقعات مبینہ طور پر رپورٹ ہونے سے قبل ہی چھپا دیے جاتے ہیں۔
حال ہی میں عمر مصطفیٰ کول مائن میں کنواں کھودنے کے دوران دم گھٹنے سے دو مزدور جاں بحق ہوگئے، جن کی لاشیں مبینہ طور پر پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔ چند روز قبل ایک اور کان میں بھی چار مزدوروں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد کانوں میں کوئلہ نکالنے کے لیے ڈائنامائٹ کا استعمال کیا جاتا ہے، جو انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس کے علاوہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے نہ ایمبولینس کی سہولت موجود ہے، نہ ڈسپنسری اور نہ ہی آگ لگنے یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں۔ہیومن رائٹس پروٹیکشن اینڈ سوشل جسٹس ٹھٹھہ کے صدر انیس ہالیو اور جنرل سیکریٹری ارشاد علی گندرو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئلے کی کانوں میں انسانی جانوں کے ضیاع کے واقعات برسوں سے میڈیا کی زینت بن رہے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکمے اور منتخب نمائندے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اگر کسی جانور کے ساتھ بھی ایسا حادثہ پیش آجائے تو فوری ردعمل دیا جاتا ہے، جبکہ ضلع ٹھٹھہ میں مزدوروں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے حکومت، محکمہ منرلز اینڈ مائنز اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کانوں میں حفاظتی قوانین پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے، حادثات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور مزدوروں کی جان و صحت کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں