10

مطالبات کی منظوری کے لیے اساتذہ اور سرکاری ملازمین کا احتجاج، شدید نعرے بازی ڈی آر اے

مطالبات کی منظوری کے لیے اساتذہ اور سرکاری ملازمین کا احتجاج، شدید نعرے بازی ڈی آر اے الاؤنس، تنخواہوں میں اضافہ، گروپ انشورنس اور فوتی کوٹہ بحال کرنے کا مطالبہ

میرپورخاص (شاھدمیمن) عمرکوٹ میں ینگ ٹیچر الائنس، گسٹا، پی ٹی الف، آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن اور دیگر اساتذہ و سرکاری ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے مطالبات کی منظوری کے لیے عمرکوٹ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت راشد منگریو، امتیاز کنبھر، روبینہ قائمخانی، قادر ساند، جاوید سومرو، بھرت بنسی مالہی، احسان شاہانی، ابراہیم رند، علی شیر، عبدالواحد، شہباز میرچند اور دیگر نے کی۔ احتجاج کے دوران اساتذہ اور ملازمین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث سرکاری ملازمین شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، لہٰذا وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کے ملازمین کی طرح سندھ کے سرکاری ملازمین کو بھی فوری طور پر 30 فیصد ڈی آر اے الاؤنس دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گروپ انشورنس کی رقم بلا تاخیر ادا کی جائے، تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے 100 فیصد اضافہ کیا جائے، جبکہ ہاؤس رینٹ اور کنوینس الاؤنس میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات بروقت ادا کیے جائیں، کلرکس کی اسامیوں کو گریڈ 15 تک اپ گریڈ کیا جائے اور نان پروفیشنل پوسٹوں کی اپ گریڈیشن کا عمل مکمل کیا جائے۔ احتجاج کرنے والوں نے فوتی کوٹہ پر بھرتیوں کا عمل فوری طور پر بحال کرنے، این ٹی ایس سمیت دیگر بھرتیوں کے مراحل کو شفاف بنانے، ترقیوں کے لیے ڈی پی سی اجلاس فوری منعقد کرنے اور کانٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈ حیدرآباد سمیت دیگر بورڈز کے بقایاجات ادا کیے جائیں اور مالی سال 2026/27 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں، جس کے باعث ملازمین میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے تمام جائز مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پورے صوبے میں تحریک چلائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں