آبی جنگ شروع ہو چُکی ہے
انڈیا کی طرف سے اس دفعہ پاکستان پر آبی میزائیل پھینکا گیا ہے جس کا نام ہے۔ “چناب۔ بیاس رابطہ سُرنگ منصوبہ” ۔ یہ سُرنگ سالانہ 2 ملیئن ایکڑ فٹ پانی دریا چناب سے موڑ لے گی جس کی صنعتی نرخوں پر مالیت 5 ارب ڈالر سالانہ ہے ۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا دریائے چناب کا پانی نہیں موڑ سکتا لیکن انڈیا نے ایک سال سے یہ معاہدہ بھی یک طرفہ طور پر معطل کیا ہوا ہے۔
24 ارب ڈالر کی لاگت والے اس منصوبے کے انفراسٹرکچر ورکس کے ٹینڈرز 20 مئی 2026 کو طلب کرلیے گئے ہیں۔ انڈین حکومت نے یہ منصوبہ جولائی 2029 تک مکمل کرنے کا ٹارگٹ دیا ہے۔
8.7 کلومیٹر لمبی اور 4.3 میٹر (14 فُٹ) قطر والی یہ سُرنگ دریائے چناب سے سالانہ 2 ملیئن ایکڑ فٹ پانی کو مشرق کی طرف دریائے بیاس میں موڑے گی۔
انڈیا کا یہ اقدام براہ راست “یو این واٹر کورسز کنونشن (1997)”، ”ویانا کنونشن (1969)” کے آرٹیکل 60، اور سندھ طاس معاہدے (IWT) کے تنازعات کے حل کے فریم ورک کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
پاکستان کو دریائے چناب پر اس سرنگ کی تعمیر کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں درخواست دائرکرنی چاہیے۔
پاکستان کو اب تو جارحانہ بنیادوں پر پانی کے ذخیروں کو تعمیر کرنا چاہیے، کیونکہ ہم پانی کا جو بھی قطرہ ذخیرہ نہیں کریں گے اسےہمارے خلاف ہتھیار بنایا جا ئے گا۔
یہ ساری ے غیرتی سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ کے غداری کے کمالات ہیں Imran Siddiqui
بہت بڑی غداری تھی اس لعین کی۔۔۔
پاکستان کے ساتھ تاریخی ظلم مشرف کے بعد دس سالہ جمہوریت میں ہوا۔۔۔
یہ بےغیرت مشرف دور سے چلا آ رہا تھا اور اب کینیڈا میں عیاشی والی زندگی جی رہا ہے اس کو بھی دوبارہ ائیر فورس کے طیارے میں پروٹوکول کے ساتھ کر انڈس واٹر کمشنر بنانا چاہیے