نوابشاہ(بیورورپورٹ)وفاقی محتسب نے پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو پبلک پارک کی اراضی میں مذید توسیع نہ کرنے کا نوٹس لے لیا،سماجی کارکن کی شکایت پر ڈی ایس ریلویز سکھر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ ریلویز سکھر کو نوٹس ارسال کردیا گیا،سات یوم میں رپورٹ طلب کرلی گئی،09جون کو ہیرنگ مقرر،دوڑ کے شہریوں کی جانب سے وفاقی محتسب آف پاکستان اور ریجنل ہیڈ وفاقی محتسب ریجنل آفس حیدرآباد سے اظہار تشکر،پبلک پارک کی توسیع کے لئے پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے مذید اراضی کی عدم فراہمی پر سخت کاروائی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی محتسب ریجنل آفس حیدرآباد کے ریجنل ہیڈ اور سینئر ایڈ وائیزر غلام رسول اہپن کی جانب سے سماجی کارکن انور عادل خانزادہ کی جانب سے ارسال کردہ شکایت پر فوری کاروائی کرتے ہوئے ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پاکستان ریلویز سکھر کو نوٹس ارسال کرکے سات یوم میں رپورٹ طلب کرلی ہے،جبکہ اس کیس کی ہیرنگ 09جون کو مقرر کی گئی ہے،سماجی کارکن انور عادل خانزادہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کیس میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان ریلویز کی جانب سے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو پبلک پارک کے قیام اور دیکھ بھال کے لئے 119680 اسکوائر فٹ اراضی لیز پر دی گئی ہے وہ ایک بہترین اور عوامی پارک کی تعمیر کے لئے ناکافی ہے،ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو مذید اراضی درکار ہے،جسکے لئے ٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی دوڑ نے متعدد بار ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو باضابطہ درخواست بھی ارسال کی،جبکہ سیکریٹری پاکستان ریلویز منسٹری آف ریلویز اسلام آباد،چیف ایگزیکٹو آفیسر / سینئر جنرل منیجر پاکستان ریلویز لاہور،ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈپاکستان ریلویز لاہور،اسٹنٹ ڈائریکٹر W-II/ منسٹری آف ریلویز اسلام آباد،ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر،ڈویژنل انجینئر 1- پاکستان ریلویز سکھر،اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر پاکستان ریلویز نوابشاہ اور انسپیکٹر آف ورکس پاکستان ریلویز نوابشاہ کو بھی لیٹر ارسال کئے گئے،مگر 05 ماہ گزرجانے کے باوجود کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی،بلکہ پاکستان ریلویز سکھر اور پاکستان ریلویز نوابشاہ کی جانب سے روز ڈویژنل ٹریسنگ پلان بنانے کے بہانے کئے گئے،اور آج تک یہ پلان نہیں بنایا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے20/06/2025کوٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی دوڑ کولیٹر No.473-W/Park/Dour/SUK ارسال کیا گیاجس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر / سینئر جنرل منیجر پاکستان ریلویز کی منظوری اور ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز ہیڈ کوآرٹر لاہور کے دستخط سے دوڑمیں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام اور دیکھ بھال کے لئے 119680 اسکوائر فٹ اراضی کی لینڈ لیز چارجز کی جو رقم بتائی گئی تھی،ؤن کمیٹی دوڑ نے مکمل رقم ادا کردی ہے۔پہلے پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے پبلک پارک کے لئے 260100 اسکوائر فٹ(چھ ایکڑ)اراضی دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی،اور پلان بنایا گیا،مگرڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈپاکستان ریلویز سکھرنے اس پلان پر ریلویز کوآرٹرز کے اعتراضات کا بہانہ کرکے اراضی کم کرکے 119680 اسکوائر فٹ(پونے تین ایکڑ)اراضی کا پلان بنایا،جبکہ پانچ ایکڑ اراضی کا پلان بنانا چاہئے تھا،اور اپ ریلوے ٹریک سے 120 فٹ کا فاصلہ رکھ کر119680اسکوائر فٹ اراضی دینے کے بجائے تین سو پچتھر فٹ کا فاصلہ رکھ کر ناکارہ،گندے پانی کے تالاب اور ایک ایکڑ سے زائد اراضی پر پختہ قبضے،اور مکانات پر مشتمل اراضی دی گئی،جسکے سبب ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو گندے پانی کے تالاب کو ختم کرنے کے لئے مٹی کی بھرائی کے لئے لاکھوں روپے کے اضافی اخراجات کرنے پڑ رہے ہیں۔سماجی کارکن انور عادل خانزادہ نے اپنے اس کیس میں مذید موقف اختیار کیا ہے کہ چھ ایکٹر اراضی کے پلان میں اپ ریلوے ٹریک سے 120 فٹ کا فاصلہ رکھا گیا تھا،پاکستان ریلویز نوابشاہ،محکمہ روینیو اور ٹاؤن کمیٹی دوڑ کے افسران نے اس مقام کا جوائنٹ وزٹ بھی کیا،جسکی رپورٹ مختیار کار دوڑ نے متعلقہ حکام کو ارسال کی،شہریوں کو بہترین تفریحی سہولت کی فراہمی اور ایک تاریخی پبلک پارک کے قیام کے لئے موجودہ دی گئی اراضی ناکافی ہے اور عوامی مفاد اور ایک بہترین تفریخی سہولت کے لئے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو مذید اراضی درکار ہے، اس مقام پر پبلک پارک کا قیام پاکستان ریلویز اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے پبلک پارک کے قیام سے ریلوے اراضی غیرقانونی قبضے سے بھی محفوظ رہے گی،برسات میں یہ علاقہ مکمل پانی میں ڈوب جاتا ہے،جسکے سبب ریلوے ٹریک بھی زیر آب آجاتا ہے،جسکی وجہ سے ریلوے ٹریک کو نقصان ہوتا ہے، عوامی بھلائی کے اس منصوبے سے ماحول میں بھی بہتری آئے گی،سماجی کارکن انور عادل خانزادہ نے بتایا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرتا ہے،اس لئے انہوں نے وفاقی محتسب حیدرآباد ریجنل آفس میں کیس دائر کیا ہے،انہوں نے وفاقی محتسب پاکستان اور ریجنل ہیڈ وفاقی محتسب ریجنل آفس حیدرآباد سے مطالبہ کیا کہ عوامی مفاد اور ماحول کی بہتری کے اس منصوبے میں مذید اراضی کی فراہمی کے سلسلے میں کاروائی کی جائے
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]