عراق کی بندرگاہ کے نزدیک کارگو شپ پر ڈرون حملہ، شدید دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی۔
جہاز پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
بغداد(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق عراقی بندرگاہ ام قصر کے قریب ایک مال بردار جہاز ڈرون حملے کی زد میں آ گیا جس سے سمندری حدود میں شدید تشویش پھیل گئی ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق برطانوی بحری ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشن نے اس حملے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے تفصیل جاری کر دی ہیں۔مذکورہ جہاز کو عراقی بندرگاہ ام قصر سے تقریباً 40 ناٹیکل میل دور نشانہ بنایا گیا ہے۔ عراقی سیکیورٹی حکام نے کہا کہ حملہ آور ڈرون نے جہاز کے دائیں حصے کو ہدف بنایا جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور جہاز میں آگ لگ گئی۔جہاز پر ہونے والے اس حملے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی تھیں۔ حکام نے مزید کہا کہ جہاز پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے حکام نے تصدیق کی کہ دھماکے کے باوجود سمندر میں تیل کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ تاحال کسی بھی مسلح گروہ یا ملک نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔برطانوی بحری ادارے نے خطے سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپتانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی نقل و حرکت کے دوران انتہائی احتیاط برتیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں تجارتی جہازوں کو متعدد بار نامعلوم پروجیکٹائلز اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔عالمی توانائی کے ماہرین کے مطابق بحری جہازوں پر ایسے حملے عالمی سپلائی چین کے لیے خطرے کی علامت ہیں۔ چونکہ دنیا بھر کی تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار انہی راستوں سے گزرتی ہے، اس لیے ان حملوں سے عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔