ھم ھیں مصطفائی۔محمد علی مصطفائی
پیاسے۔بھوکے مسلمانوں کی عید۔۔۔
گزشتہ روز عید الاضحی روایتی جوش وجزبے سے منائی گی۔مہنگائی کی ستائی عوام نے پھر بھی قربانی کی۔جبکہ کہیں مویشی منڈی تیز اور کہیں مندی کا شکار رھی۔پہلے کم قربانی ھوئی لیکن پھر بھی اچھے خاصے جانور ذبح کیے گے۔امیر ۔غریب نے گوشت کھایا۔اور کچھ نے جمع بھی کرلیا۔57اسلامی ممالک اور پوری دنیا میں جہاں کہیں مسلمان رھتے ھیں قربانی کرچکے۔مختلف ممالک میں تھوڑا بہت مقامی رسم وصواج کو چھوڑ کر باقی تقریبا ھر جگہ رضائے الہی ھی سب کا مقصد ھوتا ھے۔لیکن میں آپ کی توجہ ان مظکوموں پیاسوں ۔بھوکوں کے عید کی طرف دلانا چاھتا ھوں جو عید کے دن بھی بھوکے پیاسے اپنے بیٹوں۔جوانوں۔عودتوں بوڑھوں کی قربانی دے رھے تھے جی ھاں فلسطین کے غیور بہادر ۔باہمت مسلمان جو عید کے روز بھی امریکی اسرائیلی کتوں درندوں کا شکار ھورھے تھے۔جو اس ملبہ پر بیھٹے عید منارھے تھے جن کے نیچے انکی پیاروں کی لاشیں دفن ھیں۔ان بے سروسامان قدسیوں پر عید کے روز بھی بم گرائے گے اور کئی ایک خاںدان ختم ھوگے۔اس وقت امریکہ ایران مزاق رات چل رھے ھیں جبکہ اسراءیل لبنان اور غزہ کو تباہ کرنے میں لگا ھے۔یھود ونصاری ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے گریٹر اسرائل منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے۔وہ مسلسل اپنے کام میں لگے ھوئے ھیں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قیادت کا خاتمہ۔بے گناہ قیدیوں پر ظلم وستم۔بچوں عورتوں کا اغوا جاری ھے۔اور ھم امریکہ ایران جنگ کے مزاق رات دیکھ کر خوش ھورھے ھیں کہ امن قائم ھوجائے گا۔لیکن یہ وہ امن ھوگا جس میں لبنان۔فلسطین ۔سعودیہ۔یوای اے۔اردن وغیرہ آپکو نظر نہیں آھیں گے۔انکی لاشوں پر ھی امن قائم ھوگا۔کیونکہ یہ طے ھوچکا ھے۔پاکستان حسب سابق ٹی سی پرگروام کے تحت کوئی راہ نکال لے گا آؤر ھوسکتا ھے آخر پر ایران کی قربانی بھی دینی پڑے۔اور یہود و نصاری کا اتحادی بن کر کچھ دنوں کے لیے جنگ کو ٹال دے لیکن بحرحال اسے بھی غزوہ ہند لڑنا ھے اور عظیم تباھی ھونی ھے۔کب کہاں کیسے اللہ تعالی بہتر جانتا ھے۔اس صورتحال میں کامیاب وہی لوگ ھوں گے جو جہاد کا راستہ اپناھیں گے۔کیونکہ مرنا سبھی نے ھے لیکن نحات اسی کو ملے گی جو جہآد کے راستے میں شہید ھوگا۔باقی بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کردیئے جاھیں جیسے عید پر لاکھوں جانور ذبح ھوگے کسی جانور نے احتجاج کیا؟؟۔اب یہ فیصلہ ھم کو کرنا ھے کہ بھیڑ بکری کی طرح ذبح ھونا ھے یا میدان کارزار میں اتر کر شہادت کو گلے لگانا ھے۔شہادت کی موت میں بھی زندگی ھے اور ذلت کے جینے میں بھی موت سے بھی بدتر تکلیف ھے۔ھمارے تمام تر مسائل کا حل اس وقت صرف جہاد میں ھے۔بس۔۔۔۔
عنوان. بے بسی دل کو چیر دیتی یے کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
*گوجرہ سے ٹوبہ ٹیک سنگھ تک سفر کرنے والے شہریوں کے ساتھ دن دہاڑے زیادتی*
میلسی (بیو رو چیف و ہا ڑ ی ) پنجاب پبلک سروس کمیشن کا مشکل اور میرٹ پر مبنی امتحان نمایاں
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) مدرسہ دار القران الحدیث بھریا روڈ میں اتحاد المدارس الاسلامیہ کے
خبر شامل کرتے ہیں میلسی سے بیو رو چیف و ہا ڑ ی محمد عامر حسین قریشی سے اوسی: میلسی میں مون سون بارشوں سے قبل قائداعظم روڈ