ادب نامہ — ریڈیو پاکستان سرگودھا کا روشن ادبی استعارہ
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
ادب کسی بھی معاشرے کی فکری شناخت، تہذیبی شعور اور ثقافتی ورثے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب ادبی سرگرمیوں کو ایسے پلیٹ فارم میسر آ جائیں جو نہ صرف اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کریں بلکہ نئی نسل کی فکری تربیت کا بھی ذریعہ بنیں تو معاشرے میں مثبت فکری تبدیلیوں کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ ریڈیو پاکستان سرگودھا کا مقبول ادبی پروگرام “ادب نامہ” اسی سلسلے کی ایک روشن کڑی ہے، جس نے گزشتہ برسوں میں ادبی حلقوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔
ریڈیو پاکستان سرگودھا کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست میں ادب نامہ کی ادبی خدمات اور اس کی اثرانگیزی کا جائزہ لیا گیا۔ تقریب میں معروف شاعر، ادیب اور دانشور ممتاز عارف سمیت نوجوان شعراء نے شرکت کی اور پروگرام کی افادیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ حقیقت خوش آئند ہے کہ ادب نامہ محض ایک ریڈیو پروگرام نہیں بلکہ ایک ایسی ادبی درسگاہ بن چکا ہے جہاں فکر، فن اور تخلیق کے نئے دریچے وا ہوتے ہیں۔
پروگرام کے ابتدائی حصے میں نوجوان شعراء انیس الرحمان، عبداللہ ہاشمی، کاشف علی اور خالد چشتی نے اپنی خوبصورت غزلیات پیش کرکے سامعین سے بھرپور داد وصول کی۔ نوجوان قلم کاروں کی یہ شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ادب نامہ نے نئی نسل کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک باوقار اور مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔
معروف ادیب ممتاز عارف نے گفتگو کرتے ہوئے ادب نامہ کی کامیابی کا سہرا پروگرام کی میزبان منزہ انور گوئیندی کے ادبی ذوق، انتھک محنت اور پیشہ ورانہ مہارت کے سر باندھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام نے ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ طرحی مشاعروں کی روایت کو فروغ دیا اور اسے مسلسل کامیابی کے ساتھ جاری رکھا۔ ان کے مطابق ہر پروگرام اپنے معیار، موضوعات اور مہمانوں کے اعتبار سے منفرد اور یادگار ثابت ہوا۔
ممتاز عارف نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ قومی تہواروں اور اہم مواقع پر منعقد ہونے والے مشاعروں میں منزہ انور گوئیندی کی بہترین نظامت اور اعلیٰ معیار کے مہمانوں کی شرکت نے پروگرام کو مزید وقعت بخشی۔ ایسے اہلِ علم و دانش کی گفتگو نے سامعین کے ذہنوں میں نئے فکری زاویے پیدا کیے اور ادب نامہ کو محض تفریح نہیں بلکہ علم و آگہی کا مؤثر ذریعہ بنا دیا۔
ان کا یہ اعتراف بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ اس پروگرام سے نہ صرف سامع کی حیثیت سے وابستہ رہے بلکہ اس کی بصری جھلکیاں بھی ان کے لیے علمی استفادے کا ذریعہ بنتی رہیں۔ ان کے بقول ادب نامہ کے ہر مہمان نے اپنے فن اور تجربے سے سامعین کو کچھ نہ کچھ نیا سکھایا، جبکہ منزہ گوئیندی کی شائستہ گفتگو اور منفرد اندازِ پیشکش نے پروگرام کی کشش میں مسلسل اضافہ کیا۔
نوجوان شعراء کے تاثرات بھی اس پروگرام کی کامیابی کی گواہی دیتے ہیں۔ انیس الرحمان نے ادب نامہ کی دیرپا اثرانگیزی کو منزہ گوئیندی کی محنت اور لگن کا نتیجہ قرار دیا۔ عبداللہ علی ہاشمی نے اسے سرگودھا کی ادبی تاریخ کا روشن باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیار کے اعتبار سے یہ پروگرام بڑے مراکز کے ادبی پروگراموں کے ہم پلہ ہے۔ کاشف علی نے نوجوان شعراء کو آزادانہ اظہار کا موقع فراہم کرنے پر ریڈیو پاکستان سرگودھا کی روایت کو سراہا، جبکہ خالد چشتی نے اپنے تجربے کو اتنا خوشگوار قرار دیا کہ دوبارہ شرکت کی خواہش کا اظہار کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ادب نامہ نے سرگودھا کے ادبی منظرنامے میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف ادبی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے بلکہ نوجوان نسل کو زبان و ادب سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے دور میں جب سوشل میڈیا کی یلغار نے سنجیدہ ادبی محافل کو محدود کر دیا ہے، ادب نامہ جیسا پروگرام امید کی ایک روشن کرن دکھائی دیتا ہے۔
ریڈیو پاکستان سرگودھا کی یہ کاوش قابلِ تحسین ہے کہ اس نے ادب کو عوام تک پہنچانے اور اہلِ قلم کو ایک معتبر پلیٹ فارم فراہم کرنے کی روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ بلا شبہ ادب نامہ ریڈیو پاکستان سرگودھا کا نمائندہ پروگرام بن چکا ہے، جس پر نہ صرف سرگودھا بلکہ پورے ادبی حلقے کو فخر ہونا چاہیے۔ یہ پروگرام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر خلوص، محنت اور ادبی بصیرت یکجا ہو جائیں تو ایک علاقائی پروگرام بھی قومی سطح پر اپنی شناخت منوا سکتا ہے۔