بیو رو چیف و ہا ڑ ی *میلسی کے نواحی علاقے اڈا ہری چند پر ایس ایچ او ملک زمان لیاقت کا عوامی دربار، مسجد کی چوکھٹ پر سنا گیا مظلوم کا درد*
جب جمعہ کی نماز کے بعد لوگ اللہ کے حضور جھک کر اٹھے، تو ان کے سامنے ایک اور در کھلا – انصاف کا در، عوام کا در، پولیس کا در۔
تھانہ کرم پور کے ایس ایچ او ملک زمان لیاقت نے جامع مسجد اڈا ہری چند میں نماز جمعہ کے فوراً بعد کھلی کچہری کا انعقاد کیا اور خود زمین پر بیٹھ کر سائلین کے دکھ سنے۔ نہ کوئی پروٹوکول، نہ کوئی فاصلہ، بس ایک پولیس افسر اور اس کی عوام، روبرو۔
کچہری میں ہر عمر، ہر طبقے کے لوگ آئے۔ کسی کے ہاتھ میں زمین کے جھگڑے کا کاغذ تھا، کسی کی آنکھوں میں بیٹے کی بے گناہ گرفتاری کا آنسو، کسی کی زبان پر قرض اور دھمکیوں کی کہانی۔ ایس ایچ او ملک زمان لیاقت نے ہر ایک کو پورے انہماک سے سنا، نوٹ کیا اور موقع پر ہی متعلقہ عملے کو احکامات جاری کیے۔
ایس ایچ او ملک زمان لیاقت نے سائلین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
“یہ کھلی کچہری اس لیے ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان جو دیوار کھڑی ہو گئی ہے، وہ گر جائے۔ میرا مقصد صرف ایک ہے – آپ کی دہلیز پر انصاف پہنچانا۔ میرا دفتر 24 گھنٹے کھلا ہے۔ آپ کو کسی سفارشی، کسی وچولے کی ضرورت نہیں۔ سیدھا آؤ، اپنا مسئلہ بتاؤ، میں خود کھڑا ہوں تمہارے ساتھ۔”
ان کے الفاظ میں صرف ڈیوٹی نہیں، ایک درد تھا۔ ایک ایسا درد جو اس افسر کو راتوں کو سونے نہیں دیتا جب کوئی مظلوم انصاف کے لیے دربدر ہو۔ کھلی کچہری میں موجود بزرگوں نے دعائیں دیں، نوجوانوں نے یقین کا اظہار کیا، اور خواتین نے کہا کہ “آج پہلی بار لگا کہ پولیس ہمارا محافظ بھی ہے۔”
تھانہ کرم پور کی یہ پہل اسی بات کا ثبوت ہے کہ جب پولیس عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ لے، تو تھانہ عدالت بن جاتا ہے اور وردی امید کی علامت۔
ایس ایچ او ملک زمان لیاقت نے آخر میں کہا:
“میں یہ وردی عزت کے لیے نہیں، خدمت کے لیے پہنی ہے۔ جب تک میں اس کرسی پر بیٹھا ہوں، کرم پور کا کوئی مظلوم بے سہارا نہیں رہے گا۔”
عوام نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ہر تھانے میں ایسے افسر ہوں تو پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا وہ رشتہ قائم ہو جائے گا جو برسوں سے ٹوٹا ہوا ہے۔