7

*عذابِ قبر حق ہے لیکن یہ ہر انسان پر لازمی نہیں* پیر 18 مئی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*عذابِ قبر حق ہے لیکن یہ ہر انسان پر لازمی نہیں*

پیر 18 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

عذابِ قبر ہر انسان کے لیے لازمی اور یکساں نہیں ہے، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قبر انسان کے اعمال کے مطابق یا تو نعمتوں کا باغ بنتی ہے یا عذاب کا گڑھا۔

قرآن مجید کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا “وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں۔” سورۂ غافر 40:46

مفسرین نے اس آیت کو عذابِ برزخ یعنی عذابِ قبر کی دلیل قرار دیا ہے، کیونکہ قیامت ابھی قائم نہیں ہوئی، پھر بھی آلِ فرعون پر عذاب جاری ہے۔

اسی طرح شہداء کے بارے میں فرمایا:
بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ “بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں۔” — سورۂ آل عمران 3:169
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مرنے کے بعد برزخی زندگی موجود ہے، جس میں نعمت یا عذاب ہو سکتا ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں:
حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔”
(جامع ترمذی)

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا:
“ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں؛ ایک پیشاب سے نہ بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔”(صحیح بخاری)

کیا ہر شخص کو عذابِ قبر ہوگا؟
نہیں۔ اہلِ ایمان اور نیک لوگوں کے لیے قبر راحت و سکون کی جگہ ہوگی۔

حدیث میں ہے:
“جب مومن کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے لیے جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔” ( مسند احمد)

جبکہ کافر، منافق اور بڑے گناہوں پر اصرار کرنے والوں کے لیے عذاب ہو سکتا ہے۔

کن لوگوں کو عذابِ قبر سے حفاظت مل سکتی ہے؟

احادیث میں بعض اعمال ایسے آئے ہیں جو عذابِ قبر سے بچاؤ کا سبب بنتے ہیں، مثلاً:
ایمانِ صحیح
نماز اور تقویٰ
شہادت کی موت
سورۂ ملک کی تلاوت.
جمعہ کے دن یا رات وفات.
گناہوں سے توبہ.
سورۂ ملک کے بارے میں آیا ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذابِ قبر سے بچاتی ہے۔

اہلِ سنت کا عقیدہ:
عذابِ قبر اور نعمتِ قبر کا عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کے متفقہ عقائد میں سے ہے۔ البتہ اس کی کیفیت اور حقیقت عالمِ برزخ سے تعلق رکھتی ہے جسے دنیاوی عقل مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتی۔

خلاصہ
*عذابِ قبر حق ہے یہ ہر انسان پر لازمی نہیں*

مومن صالح کے لیے قبر جنت کی راحت بن سکتی ہے۔
کافر، منافق اور بعض گناہگاروں کے لیے عذاب ہو سکتا ہے.
اعمالِ صالحہ اور توبہ عذابِ قبر سے حفاظت کا ذریعہ ہیں۔

الدعاء:
رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگو(مسلم)
نبی کریم تشہد میں ربی جعلنی کی بجائے یہ دعاء
مانگا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ۔

آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں