عالمی معیشت کا مستقبل زراعت، لائیو سٹاک اور ای کامرس سے وابستہ ہے۔
عالمی معیشت کا مستقبل زراعت، لائیو سٹاک اور ای کامرس سے وابستہ ہے۔
پاکستان جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بروئے کار لا کر معاشی خوشحالی کی منازل طے کر سکتا ہے۔
میلسی (محمدمختارسولگی) ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب فواد ہاشم ربانی نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کا مستقبل زراعت، لائیو سٹاک اور ای کامرس سے وابستہ ہے اور پاکستان ان شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بروئے کار لا کر معاشی خوشحالی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں زرعی شعبے کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانے کا پوٹینشل موجود ہے اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ نے اس حوالے مختلف سفارشات حکومت پنجاب کو ارسال کی ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اس پر عملدرآمد کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔یہ بات انہوں نے مثالی کاشتکار ممتاز خان منیس کے میلسی میں واقع زرعی فارم کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ کمشنر ملتان ڈویژن مریم خان اور ڈپٹی کمشنر وہاڑی آصف حسین شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں پائیدار ترقی اور آبپاشی کے پانی کی کفایتی استعمال کے لئے ریجنریٹیو زراعت کی طرف جانا ہوگا تاکہ بہترین تیکنیک کے ذریعے پیداوار میں اضافہ حاصل کیا جاسکے اور آبپاشی کے پانی کی بچت اور زمین کی ذرخیزی کا تحفظ کیا جاسکے۔ فواد ہاشم ربانی نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں فصلوں کی پیداوار عالمی سطح کے مقابلے میں کافی کم ہے اور بہتر زرعی طریقوں سے گندم، ٹماٹر، آم اور دیگر فصلو ں کی پیداوار کو دگنا یا اس سے بھی بڑھایا جا سکتا ہے جس کے لئے جدید تکنیک اور وسائل کا بہتر استعمال ضروری ہے۔انہوں نے کہا اس مقصد کے حصول کے لئے ویلیو ایڈیشن کے ذریعے جدید تکنیک اور محفوظ بیجوں کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین اور دیگر ممالک میں سبز مرچ کی مانگ بہت زیادہ جس سے اچار اور ساس بنا کر منافع میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سورج مکھی تیل اور بائی پراڈکٹس کے لئے اہم ہے لیکن اس کے لئے بہترین مارکیٹ تک رسائی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آلو میں بہترین بیج، کولڈ چین اور میکانائزڈ سہولیات سے پیداوار اور منافع میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔فواد ہاشم ربانی نیبتایا کہ حکومت پنجاب کو جنوبی پنجاب میں آم اور سبزیوں کے لئے پراسیسنگ پلانٹ کے منصوبہ کے لئے سفارشات ارسال کی ہیں تاکہ پھلوں اور سبزیوں سے گودا، جوس، جام، تیل جیسی ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کی جاسکیں اور معیاری جانچ پڑتال، پیکنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے ذریعے مارکیٹ میں جگہ بنائی جا سکے۔اس منصوبے پر 345 ملین روپے کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے مزید بتایا کہ زراعت اور ڈیری پروڈکشن کے لئے چین کی مہارت سے مستفید ہونے کے پلان پر عمل کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں چین کی جانب سے ایک ہزار کاشتکاروں کو جدید فارمنگ ٹیکنیک کی ٹریننگ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چین کی جانب سے پنجاب میں 5لاکھ ایکڑ رقبہ پر ہائبرڈ بیچ کاشت کیا گیا ہے جبکہ اس رقبہ میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب نے کہا لائیو سٹاک اور ڈیری فارمنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب میں اس شعبے کو ترقی دیکر دودھ، ڈیری کی مصنوعات اور حلال گوشت کی برآمد سے ملین ڈالرز کمائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لئے بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت رکھنے مویشوں کے افزائش، بہتر خوراک اور جدید تکنیک اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حلال گوشت کی ایکسپورٹ کا کام کرنیوالی نجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ جنوبی پنجاب میں گوشت کی پراسیسنگ پلانٹس اور کولڈ سٹوریج چین قائم کریں،اس سلسلے میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔فواد ہاشم ربانی نے مزید بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ٹماٹر اور پیاز سمیت سبزیوں کی کاشت بڑھانے کے لئے کوآپریٹیو فارمنگ متعارف کرانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس سلسلے میں 2 ہزار ایکڑ پر بے موسمی پیاز اور ٹماٹر کی کاشت کی لانچنگ کی جارہی ہے۔ کہروڑ پکا، وہاڑی، رحیم یار خان اور ضلع راجن پور میں پیاز کی کاشت کا پلان تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویجیٹیبل فارمرز گروپ کو بیج، کھاد, ڈرپ ایری گیشن اور سولرائزیشن پر سبسڈی دی جائیگی۔مثالی کاشتکار ممتاز خان منیس نے اس موقع پر بغیر بیج کے کنوں اور فارم پر زیر استعمال جدید زرعی مشینری بارے بریفنگ دی۔