October 28, 2026

لباس گریہ ہے برہنگی یہ

20240918_224928

لباس گریہ ہے برہنگی یہ
لباس ہماری پہچان ہی نہیں ہماری بے پردگی کو ڈھانپ کے ہمیں َآن، شان اور مان سے جینے کا ڈھنگ بھی سکھاتا ہے. اور انسان کو جنت سے نکالا گیا جب وہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر حکم عدولی کر بیٹھا جنتی لباس سے محروم ہو گیا مردو زن کا ستر َعیاں ہوتے ہی آدم وحوا نے درختوں کے پتوں سے ستر ڈھانپنے کی کوشش کی اور پھر آدم اور حوا دنیا میں اتار دیے گیے ہر بچہ برہنہ ماں کے پیٹ سے جنم لیتا ہے پھر والدین اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے بچوں کو کپڑے پہناتے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ والدین اپنی اوقات سے بڑھ کر ہی والاد کو دیتے ہیں بھلے وہ لباس ہو، خوراک ہو، تعلیم و تربیت ہو یا سہولیات.
بلکہ اگر میں سچ کہوں تو والدین کی اکثریت اپنی اولاد پہ اپنی جان ہی لٹا دیتی ہے اسی لیے اللہ پاک نے انسان کی دنیاوی آزمایشوں میں اولاد کو سب سے بڑی آزمائش کہا ہے خیر بات لباس کی ہو رہی تھی تو مجھے اس وقت اپنی بہت ساری مریضاوں کے چہرے یاد آ رہے ہیں جو بچوں کے کپڑوں کی تیاری کے نام پہ بڑے شوقوں سے پوچھتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحبہ بیٹی ہے یا بیٹا؟
تن کو ڈھانپنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کھانا پینا یا پھر زندگی بتانے کے لیے ایک گھروندے میں رہنا گھر کے نام سے ہی ایک محفوظ پناہ گاہ کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے جہاں ہم سب پورے دن کے کام دھندے نبٹا کے آرام کرنے کی غرض سے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں جہاں آرام، سکون اور چین ہی چین ہوتا ہے جہاں دنیا داری کے دھندے نہیں ہوتے جہاں ہم اپنی مرضی سے کھا پی سکتے ہیں اٹھ بیٹھ سکتے ہیں اور رات کو اپنے بستر میں ایک پرسکون اور آرام والی نیند لے سکتے ہیں آرام و سکون کے بعد اپنے آپ کو اگلے دن کی اٹخ، پٹخ اور جوڑ توڑ کے لیے تیار کر سکتے ہیں اسی لیے تو سب کا کہنا ہے
Home sweet home
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا کا تمام مال و اسباب اسی دنیا کا ہی ہے انسان خالی ہاتھ ہی دنیا میں آیا تھا اور خالی ہاتھ ہی چلا جاے گا ہاں ماسوائے اپنے اپنے اعمال کی گٹھری کے. مگر پھر بھی اس دو پل کے جیون کو بتانے کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ کچھ نہ کچھ زاد راہ تو ضروری ہے ناں تاکہ سفر کی کٹھنایوں سے کسی طور تو نبرد آزما ہوا جا سکے.
کوئی نہ کوی بہانا تو ہو
زندگی اپنی بتانے کے لیے
کبھی تیرے پاس بیٹھنے کے لیے
کبھی تجھ سے خود کو چھپانے کے لیے
تو آپ اور ہم. اپنی زندگی کے چار دیہاڑے گزارنے کے لیے کبھی اس طرف تو کبھی اس طرف الٹی سیدھی حرکات و سکنات میں مصروف رہتے ہیں بازاروں کی رونق اور روانی اس حقیقت کا برملا اظہار ہے کہ انسان اپنی روح کے سکون کے لیے طرح طرح کے جتن کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا.
لباس انسانی حیثیت کو ہی آشکارا نہیں کرتا بلکہ انسان کی حیثیت کا بھی برملا اظہار ہوتا ہے. بادشاہ کا شاہی لبادہ اور ایک قلی کا پھٹا پیوند لگا لباس اپنے اپنے ہونے کی چغلی کھاتا ہے مرد اور عورت کے لباس میں بھی واضح فرق ہے مشرقی اور مغربی پہناوے بھی اپنی بناوٹ کا بھر پور اظہارِ ہیں سب ٹھیک یے ترقی کی انے واہ دوڑ نے جہاں ساری دنیا کے انسا نوں کو ایک ہی چھت تلے لا کھڑا کیا ہے وہاں یہ بھی غور فرمائیے گا کہ مرد کا لباس تو ابھی تک پردے میں ہے یہ عورتوں سے کیا، کونسا اور کس قسم کا ا نتقام لیا جا رہا ہے کہ انھیں بے لباس کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا. عورت خوبصورت یے بنانے والے کو داد، تخلیق کار کو مبارکباد اب دولت کے انبار اکٹھے کرنے والوں نے عورت کی وہ تعریف کی وہ تعریف کی کہ وہ پوری کی پوری کپڑوں کی محفوظ پناہ گاہ سے باہر نکل آ ی بات اب تین کپڑوں سے ہوتی ہوئی دو کپڑوں تک آ پہنچی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ ایک کپڑے سے ہوتی ہوتی بالکل عورت کی برہنگی. تک نہ آ جاے.
عورتوں کو ذہنی و جسمانی اذیت دینے کے لیے تو اہل دنیا کے قابل سپوت انھیں گلیوں، سڑکوں، چوراہوں اور بازاروں میں تو برہنہ گھماتے ہی رہے ہیں مگر فیشن شوز میں جو عورتوں کی عریانی کا موسم
چل پڑا ہے اس سے اہل دنیا شاید اربوں کھربوں تو کما ہی لیں گے مگر وہ پیغام لبادگی و حیاجو لباس اور نظر کی حیا کا درس دینے کے کیے اللہ پاک نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے وہ
حیا اور وفا کا پیغام تو لوگوں نے سنا ہی نہ اور اگر سنا بھی تو ان سنی کر دیا اور جب حضور پاک کے پاس ایک نابینا صحابی تشریف لائے اور رسول پاک نے دو مومن بیبیوں سے پردے کا کہا تو مومن بیبیوں نے کہا یا رسول اللہ وہ شخص تو نابینا ہیں تو رسول پاک کے وہ تاریخی الفاظ ہم. جیسے بے حس و بے ضمیر لوگوں کے ضمیر کو جگانے کے لیے کافی ہیں کہ وہ نابینا ہیں آپ تو نہیں ناں. جہاں مومن خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا وہیں مومن مردوں کو اپنی نظر کی حفاظت کا کہا گیا اور اسلام سے پہلے مشرکین مرد و زن ننگے ہو کے خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے تو کیا ہم پھر سے زمانہ قبل از جہالت میں پہنچ گءے جہاں تمام مرد و زن ہر ہر حیلے بہانے سے مخالف صنف کو پٹانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار کھڑے ہیں. دولت اور بے حیائی کی. یہ اندھی دوڑ ہمیں جہنم کی طرف لیے جا رہی ہے اللہ ہمیں اس برہنگی کے عذاب سے نجات دلانے آمین ثم آمین
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
naureendoctorpunnam@gnail.com