4

5روز گزرجانے کے باوجود بس اڈے سے ملنے والی ذہنی معذور مریضہ کے وارثوں کا پتہ نہ چل سکا*

*5روز گزرجانے کے باوجود بس اڈے سے ملنے والی ذہنی معذور مریضہ کے وارثوں کا پتہ نہ چل سکا*
*متعلقہ ادارے ذمہ داری لینے سے گریزاں*
*عوامی وسماجی حلقوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ*۔

میلسی(محمدمختارسولگی) میلسی میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک تقریباً 38 سالہ نامعلوم ذہنی اور جسمانی معذور خاتون گزشتہ پانچ روز سے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، مگر تاحال اس کی شناخت اور مستقل منتقلی کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 38 سالہ نامعلوم
خاتون کو پانچ روز قبل نامعلوم افراد رکشہ کے ذریعے راجپوت ٹریولرز کالونی چوک میلسی پر چھوڑ کر چلے گئے۔ مقامی افراد نے تشویشناک حالت میں اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا، جہاں مناسب علاج سے اس کی زندگی تو بچا لی گئی، مگر اب اس کی دیکھ بھال ایک نیا چیلنج بن چکی ہے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تحصیل ہسپتال میلسی، ڈاکٹر محمد عاصم کے مطابق خاتون نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی معذوری کا بھی شکار ہے اور اپنی بنیادی ضروریات خود پوری کرنے یا بتانے سے قاصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران صورتحال اس حد تک پیچیدہ ہو چکی ہے کہ ہسپتال کے ماحول اور دیگر مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈاکٹر عاصم نے مزید بتایا کہ قواعد و ضوابط کے تحت ایسی صورتحال میں متاثرہ فرد کو دارالامان منتقل کیا جانا چاہیے، تاہم متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کے درمیان ذمہ داری کے تعین میں تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب پولیس یا ضلعی انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
ہسپتال انتظامیہ نے ضلعی حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون کو جلد از جلد کسی مناسب فلاحی ادارے منتقل کیا جائے تاکہ اس کی بہتر نگہداشت ممکن ہو سکے اور ہسپتال کا معمول بھی بحال رہ سکے۔یہ واقعہ نہ صرف ایک انسان کی بے بسی کی داستان ہے بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کے فقدان کی عکاسی بھی کرتا ہے، جہاں فوری فیصلے کی ضرورت وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں