اٹلی میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا، جہاں 57 سالہ شخص نے اپنی 82 سالہ ماں گرازیلا ڈال اوگلیو کو کرسی سے دھکا دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا تاکہ وہ اس کی پنشن حاصل کر سکے۔
رپورٹس کے مطابق، اس شخص نے شناختی کارڈ کی تجدید کے لیےدفتر میں اپائنٹمنٹ لی اور اپنی ماں کے کپڑے پہن کر وگ لگا کر میک اپ کر کےخود کو ان کی جگہ پیش کیا، تاہم دفتر کے عملے کو درخوات پر اور اس کی حرکات پر شک ہوا اور حکام کو اطلاع دے دی گئی۔
حکام فوری وہاں پہنچے اور جب
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ مشتبہ شخص گاڑی چلاتے ہوئے دفتر پہنچا، جبکہ اس کی ماں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہی نہیں تھا، جس پر پولیس
کو شک گزرا اور شک کی بنا پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گھر کا جائزہ لیا اور دوران تلاشی وہاں سوٹ کیس میں اسکی 82 سالہ بوڑھی ماں کی ممی شدہ نعش برآمد ہوئی۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم نے نعش کوسڑنے سےبچانے کی کوشش کی، تاکہ محلے میں بدبو نا پھیلے اور وہ پکڑا نا جا سکے
بعد ازاں اس نے نعش کی ٹانگیں باندھ کر اسے سوٹ کیس میں ڈال دیا۔
ملزم پر لاش چھُپانے ریاست کے ساتھ دھوکہ دہی پہچان بدلنے کے ہتھکنڈے استعمال کرنا اور سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات عائد کئے ہیں۔
جس کے بعد اب اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق وجوہات معلوم کرنے کے لئے پوسٹ ماٹم کا حکم دے دیا گیا ہے ۔
پوسٹ مارٹم کے حکم کے بعد ملزم اس وقت مقامی جیل میں ہے اور پراسیکیوٹرز پوسٹ مارٹم کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔
اٹلی میں ریاستی پنشن فراڈ ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، ملک میں موت کے اندراج اور عوامی خدمات کے ریکارڈ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے بعض اوقات فوتگی کی اطلاع برسوں تک نہیں دی جاتی۔
اسی تاخیر کے باعث پنشن چیکس مسلسل جاری رہتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی متعلقہ مقامی پنشن دفتر کو موت کی اطلاع فراہم کرے۔