7

سکھر: سندھ یونائیٹڈ پارٹی کا سندھ دشمن بجٹ، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج، بجٹ مسترد کرنے کا اعلان

سکھر: سندھ یونائیٹڈ پارٹی کا سندھ دشمن بجٹ، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج، بجٹ مسترد کرنے کا اعلان

سکھر سے ھمارے بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی کے مطابق سکھرسندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی) ضلع سکھر کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے بجٹ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور سندھ کے وسائل پر مبینہ حق تلفی کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور سندھ کے حقوق کے حق میں جبکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔مظاہرے کی قیادت سندھ یونائیٹڈ پارٹی ضلع سکھر کے صدر ماجد ڈنور، عیدن جاگیرانی اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی مرکزی قیادت کی اپیل پر آج پورے سندھ میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے منظور کیا گیا مالی سال 2026-27 کا بجٹ عوام دشمن اور سندھ دشمن ہے، جسے پارٹی مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو موجودہ مہنگائی کے تناسب سے انتہائی ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کی شرح کم ظاہر کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقائق کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 20 سے 25 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے، جبکہ مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 60 ہزار روپے مقرر کی جائے تاکہ محنت کش طبقہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے این ایف سی کے تحت سندھ کے 300 ارب روپے وفاق کو فراہم کیے ہیں، جنہیں سندھ کے دریائے سندھ پر نئی نہریں (کینالز) تعمیر کرنے اور دیگر منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا، جس سے سندھ کے زرعی مفادات متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی زمینیں بڑی کمپنیوں کو دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ سندھ کے ہاری اور کسان معاشی بدحالی کا شکار ہو جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے قدرتی وسائل، جن میں کوئلہ، تیل اور گیس شامل ہیں، سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے لیکن سندھ کے عوام کو ان وسائل کا حق نہیں دیا جا رہا۔ سندھ بھر میں بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے جبکہ ایل پی جی گیس اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت کم کر کے 200 روپے فی لیٹر کی جائے، ایل پی جی کی سرکاری قیمت پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور متعلقہ اداروں کو ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کا پابند بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں ایل پی جی 460 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی سرکاری قیمت اس سے کہیں کم ہے، جس پر مؤثر نگرانی نہیں کی جا رہی۔احتجاج کے اختتام پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تمام قدرتی وسائل پر پہلا حق سندھ کے عوام کو دیا جائے، بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کی جائے، عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور عوام دوست معاشی پالیسیاں نافذ کی جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں