میلسی (بیو رو چیف و ہا ڑ ی )میلسی کے رہائشی مختیار احمد کے نام پر ایک ایسا ہوشربا مالیاتی اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف مقامی سطح بلکہ قومی ٹیکس نظام کی شفافیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ مختیار احمد کے این ٹی این (نیشنل ٹیکس نمبر) کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں جائیدادوں کے انتقالات درج کیے گئے، جن کی تعداد 375 بتائی جا رہی ہے۔
دستاویزی شواہد کے مطابق ان انتقالات میں خرید و فروخت پر عائد ہونے والے ایف بی آر ٹیکسز اور کیپیٹل گین ٹیکس بھی اسی این ٹی این کے ذریعے ادا کیے گئے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق تقریباً 11 کروڑ روپے مالیت کی قابلِ ٹیکس جائیدادوں پر یہ ادائیگیاں کی گئیں۔ حیران کن طور پر نان فائلرز کے انتقالات بھی اسی این ٹی این کے ذریعے نمٹائے گئے، جس سے نہ صرف اصل خریداروں کی شناخت چھپائی گئی بلکہ قومی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔متاثرہ شہری مختیار احمد کے مطابق وہ ایک عام آدمی ہیں، مگر ایف بی آر کے ریکارڈ میں انہیں کروڑوں روپے کی پراپرٹی کا خریدار اور فروخت کنندہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ حکومتی اسکیموں، خصوصاً تجارتی قرضہ جات کے حصول سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے ایف بی آر اسسٹنٹ کمشنر میلسی اور تحصیلدار سے متعدد ملاقاتیں کیں، مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے میں محکمہ مال کے بعض اہلکاروں، خصوصاً پٹواریوں اور تحصیلدار کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں، جو اس فراڈ کو ممکن بنانے میں کردار ادا کرتے رہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بدعنوانی کی انتہا ہے بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ ایک ہی این ٹی این کے ذریعے سینکڑوں ٹرانزیکشنز ہونے کے باوجود ایف بی آر کا خودکار نظام اس بے ضابطگی کو بروقت پکڑنے میں ناکام رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ ایف بی آر کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کی کمزوری یا ممکنہ ملی بھگت کی طرف واضح اشارہ ہے۔شہری حلقوں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے، جہاں ایک بے گناہ شہری کو نہ صرف مالی نقصان کا سامنا ہے بلکہ اس کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر خزانہ، وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ ایف بی آر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔یہ واقعہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ٹیکس نظام میں موجود خامیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی شہری کی شناخت کو اس طرح مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ اگر ایسے واقعات پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بری طرح مجروح ہو سکتا ہے۔
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) ایکس ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر پنجاب ایڈووکیٹ ملک امحد رضاگجر نے
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)مددگار 15 پولیس نوابشاہ کی بروقت کاروائی، 13 سالہ اور 10 سالہ دو
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)”ایس ایس پی سمیر نور چنہ کی سربراہی میں شہید بینظیر آباد پولیس کی
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)شہید بینظیر آباد پولیس کا ڈاکوؤں سے مقابلہ” تھانہ گپچانی کی حدود
سکھر سے بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی گے محرم کی ممرکزی قدیمی جلوس عزا خانہ سید صابر