55

لمحۂ فکریہ* . ۔. *تحریر- انور عادل خانزادہ* اس وقت میٹر ریڈر اور لائن سٹاف ہی فیلڈ میں کام کررہا ھے

*لمحۂ فکریہ* . ۔. *تحریر- انور عادل خانزادہ*
اس وقت میٹر ریڈر اور لائن سٹاف ہی فیلڈ میں کام کررہا ھےاور ریکوری بل بقایا جات۔جو گھر گھر جا کر ایک میٹر کی ریڈنگ کرتا ھے وہ میٹر ریڈر اور جو گھر گھر جا کر لوگوں کی بجلی بحال کرتے ہیں وہ لاین مین۔اس وقت پٹرول کی قیمت جو اضافہ ھو رہا ھے اس فیلڈ سٹاف کو انتہائی مشکلات کا شکار کررہا ھے۔ اتھارٹی بلکہ منسٹری پاور کو چاہیے کہ میٹر ریڈرز اور لائن مین کو الیکٹرک بائک لے کر دے ۔کم از کم 50 فیصد اتھارٹی اپنی جیب سے رقم دے اور 50 فیصد قسطوں میں وصول کر لے۔اتھارٹی اور منسٹری کو سوچنا چاہیے اگر میٹر ریڈرز اور لائن مین 15000 ہر ماہ پٹرول کی مد میں خرچیں گے تو کم از کم 5000 روپے موٹر سائیکل کی مرمت اور سروس پر ہر ماہ خرچ ا رہا ھے اس طرع 20000 چھوٹے ملازمین مطلب اپنی تنخواہ کا 20 سے 25 فیصد اس پٹرول اور موٹر سائیکل پر خرچ کریں گے تو وہ اپنے دیگر معاملات کیسے چلائیں گے۔خدارا یونین قیادت اور اتھارٹی اس پر غور کرے۔نہیں تو ملازمین بھی غربت کی نچلی سطح پر پہنچ جایئں گے۔ملازمین اتھارٹی کے تمام ٹارگٹ پورے کر رہیے ہیں۔
۔ جب دنیا آرام کر رہی ہوتی ہے، تو ہمارے لائن مین وہ جانباز سپاہی ہوتے ہیں جو تپتی دھوپ، کڑکتی بجلی اور طوفانی بارشوں کی پرواہ کیے بغیر کھمبوں پر چڑھ کر بجلی کی بحالی میں مصروف ہوتے ہیں۔​لائن مین کا پیشہ دنیا کے خطرناک ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو “موت کے تاروں” سے کھیل کر ہمارے گھروں، ہسپتالوں اور کارخانوں کو روشن رکھتے ہیں۔​تاریخ گواہ ہے کہ لائن مینوں نے عوام کی سہولت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ان کی ڈیوٹی کا کوئی وقت نہیں ہوتا؛ جب بھی فالٹ آتا ہے، وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکل پڑتے ہیں۔​حیسکو (HESCO) سمیت تمام بجلی کی کمپنیوں کے یہ کارکن وہ خاموش ہیرو ہیں جن کے بغیر ترقی کا پہیہ رک سکتا ہے۔ ان کی محنت صرف تار جوڑنا نہیں، بلکہ ملک کی معیشت کو رواں دواں رکھنا ہے۔سلام ہے ان ہاتھوں پر جن میں بجلی کے تار تو ہوتے ہیں، مگر جن کا مقصد دوسروں کی زندگی میں اجالا کرنا ہوتا ہے۔ حیسکو میں خدمات انجام دینے والے لائن مین اور اسسٹنٹ لائن مین انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ شدید گرمی، ہائی وولٹیج لائنوں پر کام، اور محدود وسائل کے باوجود یہ محنت کش ادارے کا نظام چلائے ہوئے ہیں، مگر افسوس کہ انہیں وہ سہولیات اور تحفظ حاصل نہیں جو ان کا حق ہے۔ادارے میں عملے کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ کم اسٹاف کے باوجود ملازمین پر کام کا بے پناہ بوجھ ہے، جس کے باعث حادثات اور جانی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ محنت کش اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھا رہے ہیں۔!کنٹریکٹ ملازمین کو فوری طور پر مستقل کیا جائےخالی آسامیوں پر ہنگامی بنیادوں پر بھرتی کی جائے
لائن اسٹاف کو مکمل حفاظتی سامان (سیفٹی کٹس) فراہم کیا جائےڈیوٹی اوقات کو انسانی بنیادوں پر منظم کیا جائےحادثات کی صورت میں فوری معاوضہ اور مکمل سپورٹ فراہم کیجائےحکومت وقت اور حیسکو انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے اور عملی اقدامات کرے، تاکہ قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔یہ محنت کش ہمارے ہیرو ہیں — ان کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں