9

دکھی انسانیت کی خدمت: ایک روشن مثال خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

دکھی انسانیت کی خدمت: ایک روشن مثال

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

معاشرے کی حقیقی خوبصورتی اس کے بلند و بالا عمارتوں یا ترقی یافتہ منصوبوں میں نہیں، بلکہ اس کے افراد کے کردار اور انسانیت سے محبت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب کوئی فرد بغیر کسی لالچ اور نمود و نمائش کے دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھتا ہے تو وہ نہ صرف ایک مثال قائم کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے امید کی کرن بھی بن جاتا ہے۔
تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال شورکوٹ میں پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی کے فنانس سیکرٹری چوہدری محمد ادریس کی جانب سے 50 ہزار روپے مالیت کے آئی لینز کا عطیہ اسی جذبۂ خدمت کی ایک خوبصورت عکاسی ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا قدم محسوس ہو سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اُن مریضوں کے لیے نئی زندگی کی نوید ہے جو مالی مشکلات کے باعث بینائی جیسے قیمتی نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں صحت کی سہولیات تک رسائی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں میں۔ ایسے میں اگر صاحبِ حیثیت افراد آگے بڑھ کر ہسپتالوں اور مریضوں کی مدد کریں تو نہ صرف بوجھ کم ہوتا ہے بلکہ انسانی ہمدردی کا ایک مضبوط پیغام بھی عام ہوتا ہے۔ چوہدری محمد ادریس کا یہ اقدام اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ اصل کامیابی دوسروں کے کام آنے میں ہے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ماریہ امداد اور ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کو سراہنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ادارے اور مخیر حضرات ایک پیج پر ہوں تو عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے جو محدود وسائل کے باوجود مریضوں کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایسے اقدامات صرف وقتی فائدہ نہیں دیتے بلکہ معاشرے میں خدمتِ خلق کا ایک تسلسل پیدا کرتے ہیں۔ جب ایک شخص آگے بڑھتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی راستہ ہموار کرتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کی آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہمیں بطور معاشرہ اس سوچ کو فروغ دینا ہوگا کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت فرد اپنے حصے کا کردار ادا کرے تو نہ کوئی مریض بے سہارا رہے گا اور نہ ہی کسی کو علاج کی سہولت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ چوہدری محمد ادریس جیسے افراد ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کے یہ چھوٹے چھوٹے مگر بامعنی اقدامات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اصل دولت دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں