عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی
سامارو آبپاشی سب ڈویژن میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم، چھوٹے آبادگار شدید متاثر
سامارو: سامارو آبپاشی سب ڈویژن میں مبینہ طور پر غریب اور چھوٹے آبادگاروں کے حصے کا پانی فروخت کیے جانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس کے باعث کاشتکاروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مٹھڑاؤ کینال سے نکلنے والے ڈائریکٹ واٹر کورسز، واہوں اور شاخوں کا پانی بااثر بڑے زمینداروں کو مبینہ طور پر رشوت کے عوض فراہم کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ عملہ، جس میں ایس ڈی او، داروغہ اور بیلدار شامل ہیں، مبینہ ملی بھگت کے ذریعے مشینوں اور پائپوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر پانی کی ترسیل کر رہا ہے، جبکہ مقررہ وارابندی شیڈول پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ مختلف علاقوں میں کہیں آٹھویں، کہیں پندرھویں اور کہیں اکیسویں باری پر پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے نظام میں شدید بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں۔
چھوٹے آبادگاروں کا الزام ہے کہ ان کے حصے کا پانی فروخت کر کے ان کی فصلیں سوکھنے کے لیے چھوڑ دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث زراعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ان کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں۔
متاثرہ آبادگاروں نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر آبپاشی، سیکریٹری آبپاشی اور متعلقہ حلقوں کے منتخب نمائندوں، بالخصوص سید سردار علی شاہ اور صبا ٹالپر سے مطالبہ کیا ہے کہ سامارو کے ایس ڈی او آبپاشی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔
18









