محنت کشوں کے وقار، تحفظ اور خوشحالی کے لیے پالیسی عزم کی تجدید۔
کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے محنت کشوں کے وقار میں پوشیدہ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی
کراچی(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق عالمی یومِ مزدور کے موقع پر وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی (FUUAST) کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے ترقی پذیر ممالک کی ورک فورس کے لیے جامع پالیسی وژن جاری کرتے ہوئے محنت کشوں کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر اپنے پیغام میں وائس چانسلر نے کہا کہ محنت کش کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور پائیدار ترقی کا دارومدار ان کی فلاح، تحفظ اور بااختیار بنانے پر ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پالیسی سازی کو انسانی وقار، مساوات اور مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔
پالیسی کے اہم نکات:
1۔ باعزت روزگار اور منصفانہ اجرت
کم از کم اجرت کے مؤثر نفاذ، بروقت ادائیگی اور مہنگائی کے تناسب سے اجرتوں کے تعین کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ مزدور معاشی عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں۔
2۔ پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت
کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات، قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ حادثات اور بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو۔
3۔ سماجی تحفظ اور بہبود
تمام کارکنوں خصوصاً غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے پنشن، صحت بیمہ اور دیگر سہولیات کو وسعت دی جائے گی۔
4۔ مہارتوں کی ترقی اور مستقبل کی تیاری
ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے رجحانات کے پیش نظر ہنر مندی، فنی تربیت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کے فروغ کو ترجیح دی جائے گی۔
5۔ صنفی مساوات اور شمولیت
خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے لیے محفوظ اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے، اور ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔
6۔ مزدوروں کے حقوق اور نمائندگی
مؤثر شکایتی نظام، اجتماعی گفت و شنید کے حق اور پالیسی سازی میں مزدوروں کی نمائندگی کو فروغ دیا جائے گا۔
7۔ غیر رسمی معیشت کی باضابطہ تشکیل
غیر رسمی شعبے کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ کارکنوں کو مکمل تحفظ اور سہولیات میسر آسکیں۔
وائس چانسلر نے مزید کہا کہ یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، جو تحقیق، تربیت اور پالیسی رہنمائی کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اختتامیہ:
یومِ مزدور کے اس موقع پر ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں ہر محنت کش کو عزت، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ آئیے ہم سب مل کر ایسی پالیسیاں اور اقدامات کریں جو محنت کی عظمت کو حقیقی معنوں میں تسلیم کریں۔
“کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے محنت کشوں کے وقار میں پوشیدہ ہے۔”