11

ایگریکلچر انجینئرنگ ورکشاپ اپر سندھ کے ملازمین کا احتجاج

ایگریکلچر انجینئرنگ ورکشاپ اپر سندھ کے ملازمین کا احتجاج
سکھر (بیورو رپورٹ سید نصیر حسین زیدی) ایگریکلچر انجینئرنگ ورکشاپ اپر سندھ کے ملازمین نے پروموشن، ٹائم اسکیل اور دیگر جائز حقوق سے محروم رکھنے کے خلاف ورکشاپ کے مین گیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں بڑی تعداد میں ملازمین نے شرکت کی۔مظاہرے کے دوران ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں زوردار نعرے بازی کی اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر یونین رہنماؤں محمد پناہ مہر، میر محمد مہر، آفتاب احمد، پرویز پٹھان اور محمد صالح نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی سالوں سے ایمانداری اور محنت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں خالی آسامیوں کے باوجود دوسری ریجن حیدرآباد اور لاڑکانہ سے کلرک تعینات کرنا سراسر ناانصافی ہے، جس سے مقامی ملازمین میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینارٹی لسٹ کو نظر انداز کرکے باہر سے لوگوں کو ترجیح دینا ادارے کی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔
یونین رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے فوری طور پر نوٹس نہ لیا اور ملازمین کو ان کے حقوق نہ دیے گئے تو احتجاج کا دائرہ بڑھایا جائے گا، جس میں علامتی ہڑتال، کام چھوڑ ہڑتال اور دفاتر کا گھیراؤ بھی شامل ہوگا۔مظاہرے میں شریک ملازمین نے کہا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے اور اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے ایک نام نہاد رہنما کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انجنیر اکبر علی رند ورکشاپ کی بہتری اور تباہ شدہ مشینری کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں، جسے غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے محکمہ زراعت سندھ کے سیکریٹری اور ڈی جی سے مطالبہ کیا کہ دوسری ریجن سے آئے ہوئے کلرکوں کو واپس ان کے اصل اضلاع بھیجا جائے اور مقامی ملازمین کو سینیارٹی اور قابلیت کی بنیاد پر پروموشن دے کر انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں