فیصل آباد: کبھی خوف کا نشان، آج عبرت کی تصویر… سابق ایس پی فاروق ہندل کا زوال 💔
کبھی فیصل آباد کے گلی کوچوں اور پولیس تھانوں میں جس نام کا ڈنکا بجتا تھا، جو خوف، رعب اور دبدبے کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج وہی سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس چوہدری فاروق ہندل خود بے بسی کی تصویر بنا ہوا قانون کی گرفت میں ہے 😢۔ قسمت نے ایسا خوفناک پلٹا کھایا کہ جس افسر نے اے ایس آئی سے طاقت کے ایوانوں تک کا سفر کیا، اب وہی حوالات کی بے رحم سلاخوں کے پیچھے اپنے انجام کا منتظر ہے 😔۔تھانہ لنڈیانوالہ کے علاقہ چک 651 گ ب میں، جہاں کبھی ان کا سکہ چلتا تھا، گندم کی کٹائی کے معمولی تنازع پر ایسی آگ بھڑکی کہ تین بے گناہ زمینداروں کی زندگی چراغ گل ہوگئے 🩸۔ اس افسوسناک واقعے میں ریٹائرڈ ایس پی فاروق ہندل اور ان کے بھتیجے عثمان عرف شانی کو حراست میں لے لیا گیا ہے 🚓۔ سٹی پولیس آفیسر نے واقعے کے بعد سخت انکوائری اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے ✋ 👇
فاروق ہندل کا نام فیصل آباد کے ان پولیس افسران میں سرفہرست تھا جنہوں نے اپنی محنت اور مبینہ طور پر سخت گیر طریقوں سے ایک الگ شناخت بنائی 😤۔ بطور ایس ایچ او باہلک، ان کا رعب اپنے عروج پر تھا 🦅۔ انہیں ایک ایسا تفتیشی افسر مانا جاتا تھا جو پیچیدہ سے پیچیدہ وارداتوں کو حل کرنے، خطرناک ڈاکوؤں کو نیست و نابود کرنے اور اشتہاریوں کی زندگی اجیرن کرنے کا فن جانتا تھا 💪۔ ان کے دور میں، مجرموں کے لیے کسی علاقے میں فاروق ہندل کی تعیناتی کسی قیامت سے کم نہ تھی 😱۔ بدنام زمانہ ڈاکو علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے، اور مقامی بااثر لوگ بھی ان کے سامنے آنکھیں اٹھانے کی جرأت نہ کرتے تھے 👀 🤔
جہاں ان کے مداح انہیں ایک بہادر اور نڈر کرائم فائٹر قرار دیتے، وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی سروس بے رحم تفتیش، مشکوک پولیس مقابلوں اور غیر انسانی سلوک کے الزامات سے بھری رہی 😢۔ ماضی میں، فیصل آباد کے کئی پولیس مقابلوں میں ان کا نام بطور آپریشنل کمانڈر سامنے آیا، جن میں سے کچھ کو بڑی کامیابی قرار دیا گیا، مگر کئی مقابلوں پر سنگین سوالات بھی اٹھے ❓۔ پولیس کے اندرونی حلقوں میں بھی یہ تاثر عام تھا کہ فاروق ہندل نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنے ماتحتوں پر شدید دباؤ ڈالتے تھے 💥۔ ایک متنازع واقعے میں، جب پنجاب ہائی وے پٹرول کے دوران ایک شہری کی ہلاکت ہوئی، تب بھی ان کے کام کرنے کے انداز پر انگلی اٹھی تھی ☝️ 🐂
پولیس سروس کے دوران حاصل ہونے والے اثر ورسوخ اور مبینہ مالی طاقت نے انہیں وسیع زرعی زمینوں کا مالک بنا دیا 🌾، انہوں نے عمدہ نسل کی بھینسوں کے فارم قائم کیے اور کئی دیہی علاقوں میں اپنا معاشی دباؤ بڑھایا 🚜۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہی زمینیں اور زرعی مفادات آج ان کے لیے وبالِ جان بن گئے 😩۔ بتایا جاتا ہے کہ پڑوسی زمینداروں کے ساتھ ان کی کافی عرصے سے کشیدگی چل رہی تھی، جو گندم کی کٹائی کے دوران کھلے تصادم کی شکل اختیار کر گئی 🔥۔ الزام ہے کہ فاروق ہندل کی موجودگی میں ان کے قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے تین قیمتی جانیں موقع پر ہی ضائع ہوگئیں 😭😭😭 😡🚑
اس لرزہ خیز واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید غصہ اور اشتعال پھیل گیا 😡۔ عینی شاہدین کے مطابق، مقتولین کے لواحقین اور دیہاتی بے قابو ہو کر سابق پولیس افسر پر ٹوٹ پڑے اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا 🤕۔ صورتحال اس قدر نازک تھی کہ اگر تھانہ لنڈیانوالہ پولیس بروقت نہ پہنچتی تو بپھرا ہوا ہجوم انہیں موقع پر ہی جان سے مار سکتا تھا 👋🚨۔ پولیس نے زخمی اور بدحال فاروق ہندل کو اپنی تحویل میں لیا، طبی امداد دی اور پھر مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی 🚓 🥺
یہ منظر خود پولیس ملازمین کے لیے بھی ناقابلِ یقین اور عبرت ناک ہے 😮۔ وہ فاروق ہندل، جن کے ایک اشارے پر لوگ حوالات میں بند ہو جاتے، آج وہ خود اسی نظام کے رحم و کرم پر ہیں 😢۔ وہی تفتیشی کمرے، وہی سلاخیں، وہی پولیس کے سوالات… مگر اس بار وہ میز کے دوسری طرف بیٹھے ہیں 😞۔ پولیس کے کچھ اہلکار دبے لفظوں میں اسے “وقت کا پہیہ” قرار دے رہے ہیں، جس کا رخ موڑنا ناممکن ہے 🕰️۔ ان کا کہنا ہے کہ سروس کے دوران ان کی سختی، حاکمانہ انداز اور مبینہ زیادتیوں نے کتنے ہی خاندانوں کو خون کے آنسو رلایا، اور آج وہی افسر اپنی تقدیر کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے 💔۔
طاقت فانی ہے: ایک خاموش سبق 👉
چوہدری فاروق ہندل کی زندگی آج ہم سب کے لیے ایک ایسی زندہ مثال بن گئی ہے جو یاد دلاتی ہے کہ طاقت، رعب، دولت اور اثر و رسوخ ہمیشہ قائم رہنے والی چیزیں نہیں ہیں 👇۔ ایک وقت تھا جب ان کے نام سے بڑے بڑے لرزتے تھے، اور آج وہ خود ایک سنگین ٹرپل مرڈر کیس میں ملزم کی حیثیت سے قانون کے سامنے کٹہرے میں کھڑے ہیں ⚖️😢۔
یہ واقعہ صرف تین قتلوں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ طاقت کے نشے، بڑے بول، سخت رویوں اور انسان کے انجام کی ایک ایسی لرزہ خیز داستان ہے جو ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے… ایک ایسا سبق جو یہ سکھاتا ہے کہ سدا بادشاہی صرف اللہ رب ذوالجلال کی ہے 🤲📿۔
پولیس کے لیے کڑا امتحان: کیا انصاف ہوگا؟ 🤔🚨
اب یہ کیس فیصل آباد پولیس کے لیے بھی ایک بہت بڑا امتحان بن چکا ہے 🏆۔ مقتولین کے یتیم بچے، لواحقین، دیہاتی آبادی اور پولیس کے حلقے سب کی نظریں اب اس بات پر جمی ہوئی ہیں کہ کیا قانون ایک سابق دبنگ افسر کے سامنے بھی اتنا ہی مضبوط اور بے لاگ ثابت ہوتا ہے جتنا کسی عام شہری کے لیے ہوتا ہے یا نہیں ⚖️؟۔ شہری حلقے پرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ تفتیش مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر کی جائے تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے 🤝۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مقتولین کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے (آمین) 🤲😭۔ اور اللہ ہمیں یہ سمجھنے کی توفیق دے کہ اختیار، غرور اور دولت کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہی ہوتا ہے 😔
#hussaindigitalnews
#PunjabPolice
#maryamnawazshrif
*_مالاکنڈ سوات کی اس لڑکی نے دو ہفتے پہلے اپنے بوڑھے باپ کے ہمراہ پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کر کے قانون نافظ کرنے والے اداروں سے قبضہ
ٹھٹہ: رپورٹ عبدالعزیز فیخ ڈپٹی کمشنر ٹھٹہ سرمد علی بھاگت نے محکمہ خوراک کے گودام کا دورہ
فیصل آباد: کبھی خوف کا نشان، آج عبرت کی تصویر… سابق ایس پی فاروق ہندل کا زوال 💔
ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ دنیاےء اردو ادب کی مایا ناز شاعرات،میں سر فہرست اپ کی شاعری طبع کا نام نھی فکر عمل کا نام ہے
ٹھٹھ رپوٹ عبدالعزیز شیخ ٹھٹہ پولیس نے گٹکا اور منشیات کے خلاف کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے 17 گٹکا فروش/مٹیریل سپلائر، 2 منشیات فروش اور 1 جواری سمیت مجموعی طور پر