5

ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ دنیاےء اردو ادب کی مایا ناز شاعرات،میں سر فہرست اپ کی شاعری طبع کا نام نھی فکر عمل کا نام ہے

ڈاکٹر پونم گوندل صاحبہ دنیاےء اردو ادب کی مایا ناز شاعرات،میں سر فہرست اپ کی شاعری طبع کا نام نھی فکر عمل کا نام ہے
دنیاےء اردو ادب دنیاےء ادب سے خالی نھی ادب ایک ایسا شجر ہے جو ہر موسم میں سر سبز دیکھایء دیتا ہے علم ایک ایک پودا ہے جہاں خزاں کا سوال نھی پیدا ہوتا علم کی عمر طویل ہے ادب حسن اخلاق ایک خزینہ گوہر ہے جس کی چمک کبھی مدھم نھی ہوتی بیشک دنیاےء اردو ادب میں کچھ عظیم شاعرات ادیبہ مصنفہ لکھاری نے بین الاقوامی سطح پر اپنی خواہشات کو نھی خدمات کو پرویا اردو ادبی کی خدمات نے انہیں مقبولیت عطا کی جس میں ڈاکٹر پونم نورین گوندل صاحبہ کی فکری افکار ادبی لگاوں تحریر افسانے صرف زہین کی وسعتوں کو نھی بلکہ دلوں کو متاثر کرتے ہیں اس عظیم ناصح فاتح خاتون کی روح پرور تحریر دلوں کو متاثر کرتی گی اپ شاعری تحریر افسانے سماج کی تلخ حقیقت کا عکس ہوتے ہیں
محترمہ معظمہ ڈاکٹر پونم نورین گوندل صاحبہ کی روان دواں زندگی پھر ان کے خوبصورت احسساسات لفظ بہ لفظ جملے تحریر ترجمانی کرتی ہے معشل راء درس کی حامل خاتون شاعرہ افسانہ نگار لکھاری نے وحدانیت پر بھی کیء تحریر لکھی عشق جاوداں شعری مجموعہ اپ کی شخصیت کا عظیم پہلو یے بیشک رب سے محبت عشق فطری عمل ہے ڈاکٹر پونم نورین گوندل صاحبہ نے اپنی تحریر سخن ارایء سے جو خوب صورت احسساسات کو پرویا کدوی سچائی ہے اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری دل میں تلاش کرنے کا نام بیعت ہے بیشک اطاعت فرماں برداری میں فلاحی راز پوشیدہ ہے کامیاب زندگی کامیاب لکھاری کے قلم میں چھپی ہوتی ہے
میں نے اکثر ڈاکٹر پونم نورین گوندل صاحبہ جی سے بات کی جو مجھے شرف بات کرنے سے حاصل ہوا ہزاروں افسانے تحریر مطالعہ کےء لیکن جن کے افسانون و سخن ارایء سے طویل گفتگون نے بار بار دل کہتا رہا کہ کبھی زندگی میں ایک بار بات ہوجاےء لیکن وسیع النظری کہ اس پیکر نے بات کی کبھی سونچا نھی تھا کہ اس عظیم خاتون بہین سے ہوگی سرحد پار کون کس کو جانتا لیکن ادب یہ عظیم خزینہ گوہر اردو نے ہم جیسے طالبہ کو بات کیا یہ ان کا اعلی ظرف ہے
میں عصمت فاطمہ راشد دیشمکھ انڈیا یہ بتانا چاہتی ہون کہ ادب دنیا میں قابل شاعرات نے اپنی خدمات کو لوہا منوایا جو قابل فخر ہیں شعراء اکرام کی بھی عظیم خدمات رہی لیکن خواتین کی ادبی خدمات عظمت عظیم ہے
اج کے پرفتن دور میں ادبی خدمات کرنا دانت میں لوہے چبانے کے مترادف ہے کویء لکھاری کویء قلمکار ایسی نھی بن جاتی اس کے پیچھے بہت بڑی ازمایش ہوا کرتی ہے زمداریوں کا احساس پھر سارے کام کاج سے فارغ ہونا پڑتا ہے وقفہ زندگی ہر کسی ساتھ نھی دیتی یہاں مسایل مصاءیب کا لبادہ اوڑھنا پڈتا ہے
زندگی اسان ہوتی تو یہاں ہر کویء روتا نطر نھی اتا
ڈاکٹر پونم نورین گوندل صاحبہ کے افسانے میں رہنمائی و درس حاصل ہے ایک افسانہ میں اپ نے بہت پیاری تحریر تلخ حقیقت کو پیش کیا چھوت چھات کا نظام انسانوں کا تکبر گھمنڈ اور ظلم و زیادتی فکر انگیز حالات فرعونیت کو اجاگر کیا پھر کہا کہ انسان کی اوقات ایک مچھر کے پر کے برابر نھی پھر بھی گھمنڈ میں چور ہے انہون نے والہانہ انداز میں کہا کہ پاکیزہ ماحول بہترین زندگی عطا کرتا ہے اعلی سوچ اعلی ظرف ہماری زندگی کے اہم ستون ہے لہجہ گفتگو انداز ہمارا تعارف ہے لہجہ کے الفاظ دوا سے زیادہ شفاء دیتے ہیں تلخ کلامی بدگویء اظراب زندگی کو گہن لگاتے ہین بیشک قابل لکھاری صرف زہین کی وسعتوں کو نھی زہین کو تحریک دیتی ہے اخلاص سے کیا ہوا ہر عمل ہمارے لےء نیکی کا باعث ہے
ڈاکٹر پونم نورین گوندل صاحبہ کی ادبی خدمات بین الاقوامی سطح پر کافی مقبولیت کا حامل رہے ہیں اس عظیم خاتون کے جانفشانی کو تو دیکھےء اپ خود ایک ڈاکٹر ہین لیکن ادبی خدمات نے اپ کو ایسے منسلک رکھا کہ اپ سات کتب لکھ ڈالے اس عظیم خاتون کی عظیم خدمات کو سلام ہے جنہون نے اپ اردو ادبی خدمات میں اپنا نام درج کیا ڈاکٹر شاہد صاحب جن کی سرپرستی نے اپ کو حوصلہ بخشا۔
راقم الحروف
تبصرہ نگار۔ عصمت فاطمہ راشد دیشمکھ انڈیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں