26

*سورۃ الفتح کی آخری آیت (آیت 29) کا ترجمہ اور تفسیر اور فضیلت* جمعرات 30 اپریل 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*سورۃ الفتح کی آخری آیت (آیت 29) کا ترجمہ اور تفسیر اور فضیلت*

جمعرات 30 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

آیت:
مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ ۚ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا

ترجمہ (اردو):
محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ رکوع و سجدہ میں مشغول رہتے ہیں، اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے طلبگار ہیں۔ ان کی علامت ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ظاہر ہے۔ یہی ان کی مثال تورات میں ہے اور انجیل میں بھی ان کی مثال بیان کی گئی ہے، جیسے ایک کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہو گئی اور اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، جو کسانوں کو خوش کرتی ہے اور کافروں کے دل جلانے کا سبب بنتی ہے۔ اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، مغفرت اور عظیم اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔

مختصر تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی جامع تصویر پیش فرمائی ہے:

1.نبی ﷺ کی حیثیت: آپ ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، جن کی اطاعت ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔

2.صحابہ کی صفات:
کفار کے مقابلے میں سخت (یعنی دین کے معاملے میں مضبوط)

آپس میں نہایت نرم دل اور محبت کرنے والے

3.عبادت کا حال: وہ لوگ کثرت سے رکوع و سجدہ کرنے والے ہیں، اور ان کی عبادت کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہے، دکھاوا نہیں۔

4.روحانی علامت: سجدوں کی کثرت سے ان کے چہروں پر نور اور خشوع کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔

5.ترقی اور طاقت کی مثال: ان کی مثال ایک مضبوط فصل کی ہے جو آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، مضبوط ہوتی ہے اور کسان کو خوش کرتی ہے۔ اسی طرح ایمان والے بھی بڑھتے اور مضبوط ہوتے ہیں۔

6.وعدۂ الٰہی: اللہ نے ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے مغفرت اور عظیم اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔
اس آیت کی فضیلت:

1- صحابہؓ کی محبت اور اتباع:
اس آیت کو پڑھنے سے دل میں صحابہ کرامؓ کی محبت پیدا ہوتی ہے، اور انسان کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی ترغیب ملتی ہے۔

2.ایمان میں مضبوطی:
یہ آیت اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتی ہے، اس کو پڑھنے اور سمجھنے سے ایمان تازہ ہوتا ہے اور عمل کی رغبت بڑھتی ہے۔

3.دعا کی قبولیت کا وسیلہ:
بعض اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ اس آیت کو پڑھ کر دعا مانگنا باعثِ قبولیت بنتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کے محبوب بندوں کا ذکر ہے۔

4.دل کی نرمی اور اخلاص:
یہ آیت انسان کے اندر عاجزی، خشوع اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

الدعاء
یا اللہ تعالی قرآن مجید میں موجود تیرے سارے احکامات پر عمل کی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں