26

سکھر تھرمل کالونی کے بزرگ کی مشکوک موت، ورثا کا قتل کا الزام، پریس کلب میں احتجاج

سکھر تھرمل کالونی کے بزرگ کی مشکوک موت، ورثا کا قتل کا الزام، پریس کلب میں احتجاج

سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاین نیوز)سکھر تھرمل کالونی میں رہائش پذیر ابڑو برادری کے بزرگ شہری ممتاز ابڑو (70) کی دو روز قبل گمشدگی کے بعد لاش ملنے سے اہلخانہ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ بیٹوں ریاض اور فیاض ابڑو نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سست روی کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔متاثرہ خاندان کے مطابق ممتاز ابڑو پینشن کے معاملے کے سلسلے میں گھر سے نکلے تھے۔ وہ سلےٹی رنگ کے کپڑے اور کندھے پر نسواری رنگ کا رومال لئے ہوئے تھے۔ ریاض ابڑو نے واضح کیا کہ والد کا دماغی توازن مکمل طور پر ٹھیک تھا۔ دو روز تک ہسپتالوں، رشتہ داروں اور دیگر ممکنہ مقامات پر تلاشی لی گئی تاہم کوئی سراغ نہ ملا۔خاندان کی جانب سے سوشل میڈیا پر خبر وائرل کرنے کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد ببرلوء پولیس نے متاثرہ خاندان کے ایک کزن کو اطلاع دی کہ ایک نامعلوم لاش ملی ہے۔ شناخت کرانے پر یہ لاش ممتاز ابڑو کی ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ورثا لاش سکھر پریس کلب کے باہر لا کر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔بیٹوں ریاض اور فیاض نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شک ظاہر کیا کہ ان کے والد کو قتل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ والد کی جیب میں چیک موجود تھا، لیکن پولیس نے انہیں صرف ایک کاغذ دیا جبکہ چیک اور شناختی کارڈ غائب ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ قتل ان کے کزنز اور سیپکو کے افسران نے کیا ہے۔ ریاض ابڑو نے بتایا کہ خاندانی جائیداد کا تنازع بھی چل رہا ہے جس میں ان کے والد سب سے بڑے تھے — یہی قتل کی ممکنہ وجہ قرار دی جا رہی ہے۔احتجاج کرنے والوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ والد کی جیب سے چیک اور کارڈز کس نے لیے، اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں