سکھر: 17 سالہ نوجوان کی 5 روزہ لاپتگی پر احتجاج، پولیس سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ
سکھر (بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی دعا ان ماہرین نیوز ای۔ ڈی چینل)سکھر مائیکرو کے رہائشی مغیری برادری سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ حبدار مغیری کے 5 روز قبل لاپتہ ہونے کے خلاف جمعرات کو سکھر پریس کلب کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے شہر میں بگڑتے ہوئے امن و امان کے ساتھ ساتھ اغازیوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت شہری اتحاد کے چیئرمین عبیداللہ بھٹو ابنِ آزاد، علی دوست مغیری اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ مظاہرین نے زوردار نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ سکھر شہر کا امن و امان تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ آئے روز چوری، ڈکیتی اور اسنیچنگ کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور اب اغوا کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔مظاہرین نے بتایا کہ کل ہی ایک عمر رسیدہ شخص جو 3 روز سے لاپتہ تھا، اس کی لاش ان کے گھر والوں کو حوالے کی گئی۔ اب مائیکرو کا رہائشی 17 سالہ حبدار مغیری 5 روز سے لاپتہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان نے متعلقہ تھانے میں باضابطہ رپورٹ درج کرا دی ہے، مگر پولیس نے اب تک بازیابی کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ جس پر ہم مجبوراً احتجاج کرنے پریس کلب پہنچے ہیں۔مظاہرین نے اعلیٰ حکام، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان کے بچے کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ نیز واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ احتجاج کے دوران موجود رہنماؤں نے حکومت سے اپیل کی کہ شہر امن و امان کی صورتحال کو فوری بہتر بنایا جائے۔واضح رہے کہ حبدار مغیری کی لاپتگی کے معاملے پر اب تک پولیس کی جانب سے کوئی اہم پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے، جس کے باعث خاندان اور علاقے کے لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔