49

*جائیں تو کہاں جائیں*

*جائیں تو کہاں جائیں*
ملک پاکستان میں ہر سال مہنگی ترین پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے والے جب فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو نہ سرکاری اداروں میں اور نہ ہی نجی اداروں میں انکی تعلیم اور شعبہ کے تحت روزگار ہوتا ھے اور اگر نجی اداروں کو منتخب کرتے ہیں تو ماہانہ مشاہرہ اس قدر کم ہوتا ھے کہ چپڑاسی اور پروفیشنل ایک ہی قد میں نظر آتے ہیں۔ سرکاری اداروں کی بات کی جائے تو یہاں نہ ہی اہلیت، قابلیت، ذہانیت کی اہمیت و فوقیت دی جاتی ھے اور نہ ہی سمجھا جاتا ھے البتہ نوکریاں فروخت، اور سیاسی بنیادوں یا پھر رشتہ داروں میں نااہل، ناکارہ، اور نالائق کو مفت میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ سہی کہتے ہیں ادبی پڑھے لکھے لوگ پاکستان بنانا پیلس بن چکا ھے۔ کوٹہ سسٹم کیا قرآن و احادیث سے ثابت ھے کہ یہ درست عمل ھے اگر ہاں تو پھر ہر صوبے میں سندھ کی طرح دیہی شہری کوٹہ سسٹم آئین میں مختص کردیا جائے اور اگر یہ عمل گناہ کبیرہ اور انسانی حقوق کی خلاف ھے تو فوراً ختم کردیا جائے۔ پاکستان کا آئین اِس وقت بھی قرآن و احادیث سے جدا نہیں مگر اسکی شقوں کو استعمال نہیں کیا جاتا البتہ اپنے مفادات کے ترامیم کو آویزاں اور روشن رکھا جاتا ھے تاکہ ذاتی مفادات زیادہ سے زیادہ حاصل کرسکیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اس بات کو بخوبی جانتی ہیں مگر غلط کو غلط کہنے سے کتراتی ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ھے کہ اگلی باری ہماری ہوگی۔ ان اسی پچاسی سالوں میں گھڑ سوار وہی بدلتے دیکھے گویا چند ایک کے علاوہ کوئی گھڑ سواری کا ماہر نہیں۔ اللہ سب دیکھ رھا ھے۔ سوال تو یہ پیدا ہوتا ھے کہ ہماری نسل کے یہ قابل، اہل، ذہین اور ماہر پروفیشنل تعلیم یافتہ جائیں تو کہاں جائیں، کیا ریاست اور حکومت کی ذمہداری نہیں کہ ان کیلئے بہترین سدباب کیا جائے۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں