پاکستان کا زوال پذیر نظام صحت
تحریر:اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں دیگر شعبوں کی طرح صحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہو چکا ہے۔صحت کا شعبہ اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تھا مگر اس کو بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔حکمران طبقہ یہاں علاج کرانے سے بھی گریز کرتا ہے بلکہ بیرون ممالک علاج کرانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔اس طرح علم ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں علاج کی ناکافی سہولیات ہیں۔غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے معمولی سا علاج کرانے سے بھی قاصر ہو چکی ہے۔معمولی سے بخار کے لیے ایک عام سی گولی کا خریدنا بھی لاکھوں پاکستانیوں کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔دنیا بھر میں جدید تحقیقات کی جا رہی ہیں رہیں اور علاج کے لیے جدید طریقے اپنائے جا رہے ہیں لیکن پاکستان میں صحت کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔کہیں کہیں معیاری علاج کی سہولیات دستیاب ہیں،لیکن ان سے فائدہ اٹھانا غریب آدمی کے بس سے باہر ہے۔ترقی یافتہ ممالک صحت کے شعبے کو خصوصی ترجیح دیتے ہیں،لیکن پاکستان میں کسی قسم کا خیال نہیں رکھا جاتا۔تازہ اعداد و شمار 2026ءکے مطابق پاکستان اپنے جی ڈی پی کا1فی صد صحت پر خرچ کرتا ہے۔عالمی صحت تنظیم(WHO) کی طرف سے بجٹ 5 فیصد تجویزکیا گیا ہے اور پاکستان میں کم بجٹ خرچ کیا جاتا ہے۔پاکستان میں فی کس صحت پر30-39 امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ماں اور بچے کی صحت کا معاملہ بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا 675 نوزائیدہ بچے اور 29 مائیں قابل علاج بیماریوں سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔اگر بچے اور ماں کو معمولی سا علاج دستیاب ہوتا تو اموات بہت ہی کم ہو جاتیں۔صاف پانی کی عدم موجودگی سے بھی کئی قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ایک جائزے کے مطابق تقریبا 40 فیصد اموات ناقص پانی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔بعض جگہوں پر تو پانی شدید کم ہے یا جہاں پانی دستیاب ہے وہ کھارا اور پینے کے قابل نہیں۔صاف پانی کی عدم دستیابی کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔بعض علاقوں میں صاف پانی میسر بھی ہے تو وہ آلودگی سے بھرا ہوتا ہے۔ڈائریا،ہیضہ اور دیگر پانی کی وجہ سے پھیلنےوالی بیماریاں بچوں کی اموات کی شرح میں تیزی سےاضافہ کر رہی ہیں۔بچوں کے علاوہ بڑے بھی پانی کی وجہ سے کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔گردوں،پھیپڑوں اور دیگر کئی قسم کے امراض صاف پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے پھیل جاتے ہیں۔ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف کی بھی بہت زیادہ کمی ہے۔بہت سے ڈاکٹر بہتر مستقبل کے لیے پاکستان کو چھوڑ کر دیگر ممالک میں پریکٹس کر رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریبا4000ڈاکٹر پاکستان کو چھوڑ گئے۔خواتین ڈاکٹر بھی کا مسئلہ بہت ہی گھمبیر ہے۔ تقریبا35 فیصد خواتین ڈاکٹر گھریلو کام کاج اور معاشی دباؤ اور دیگر مسائل کی وجہ سے میڈیکل کے شعبہ کوچھوڑ جاتی ہیں۔ہسپتال بھی بہت کم ہیں،بلکہ دیہاتوں میں تو صورتحال بہت زیادہ بدتر ہے۔شہری علاقوں کے ہسپتالوں میں کچھ زیادہ سہولیات موجود ہوتی ہیں لیکن دیہاتی علاقوں کے ہسپتالوں میں سہولیات کی شدید کمی ہوتی ہے۔یہ بھی درست ہے کہ شہری علاقوں کے ہسپتالوں پر بھی زیادہ دباؤ ہوتا ہے،کیونکہ وہاں مریض زیادہ ہوتے ہیں۔پرائیویٹ ہسپتال بھی پائے جاتے ہیں لیکن ان کا علاج بہت مہنگا ہوتا ہے جو عام آدمی کے بس سے باہر ہو جاتا ہے۔سرکاری ہسپتال عوامی حلقوں میں کم پسند کیے جاتے ہیں کیونکہ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی ہوتی ہے۔پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کی بھی بہت زیادہ کمی ہے،جس کی وجہ سے امراض کی صحیح طور پر تشخیص نہیں ہو پاتی۔اگر کسی مرض کی صحیح طور پر تشخیص نہ ہو سکے تو اس کا علاج کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔لیبارٹریوں میں بھی ابھی تک جدید مشینری کا استعمال انتہائی کم ہوتا ہے۔پاکستان میں کم سرمایہ سے زیادہ سرمایہ کمانے کا رجحان پایا جاتا ہے اور بدقسمتی سےصحب کا شعبہ بھی زیادہ منافع کی لالچ کا شکار ہو گیا ہے۔
پاکستان میں کئی بیماریوں پر قابو پا لیا گیا ہے،لیکن کئی قسم کے امراض پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔پولیوکی مثال دی جا سکتی ہے،جس پر ابھی تک مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا حالانکہ دنیا بھر میں پولیو تقریبا ختم ہو گیا ہے۔ملیریا،ڈینگی اور دیگر کئی قسم کی بیماریاں عام پائی جاتی ہیں۔دل،پھیپڑوں،گردوں اور کئی دیگر بیماریاں بھی زیادہ پھیل چکی ہیں۔شوگر بھی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس سے کروڑوں افراد متاثر ہو چکے ہیں اور شوگر سے متاثر افراد کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ شوگر کے مریض ہیں۔بلڈ پریشر بھی بہت زیادہ پھیل رہا ہے۔ہوائی آلودگی،تمباکو نوشی،غذائی قلت اور معیاری ادویات کی کمی سے سنگین قسم کے صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔بہت سی بیماریوں پر جدید علاج کی وجہ سے قابو پا لیا گیا ہے،جیسے ٹی بی کوماضی میں جان لیوا مرض شمار کیا جاتا تھا لیکن اب اس کا علاج تقریبا مکمل طور پر موجود ہے۔
پاکستان میں صحت کے مسائل پر قابو پانا ہوگا۔سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کی عدم دستیابی ہے۔صاف پانی کی دستیابی سے کئی قسم کے امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔بعض علاقوں میں صاف پانی موجود ہوتا ہے لیکن صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا،اس لیے وہاں پانی کو فلٹرکرنے کا انتظام کیا جائے تاکہ شہریوں کو صاف پانی میسر ہو۔صاف اور معیاری غذا کا استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔معیاری غذا نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے افراد بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں،اگر ہر پاکستانی کو معیاری غذادستیاب ہونا شروع ہو جائے تو بہت سی بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔صحت کا بجٹ بھی بڑھاناہوگا اور تشخیص کے لیے جدید مشینری کی موجودگی بھی ضروری ہے۔پاکستان میں نقلی اور غیر معیاری ادویات بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہیں،یہ ضروری یہ ہے کہ ہر شہری کو اصلی اور معیاری دوا دستیاب ہو۔ہسپتالوں کی تعداد بھی بڑھانے کی ضرورت ہے،صرف تعدادکونہیں بڑھایا جائے بلکہ تمام سہولیات بھی مہیا کرنی ضروری ہیں۔ڈاکٹرز کی کمی بھی ایک انتہائی بڑا مسئلہ بن رہا ہے،ڈاکٹرز کی تعداد کو فوری طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔آلودگی کہ خاتمے کے لیے بھی فوری طور پر کوششیں شروع کر دینی چاہیے۔بہت سے افراد سستی اور کاہلی کی وجہ سے متعدد امراض کا شکار ہو جاتے ہیں، اگر ہلکی پھلکی ورزش کی جائے تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔صفائی کا ہوناضروری ہے،صاف ستھرا جسم بہت سی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کچھ عرصے کے بعد جسم کا چیک اپ کراتے رہنا چاہیے تاکہ امراض کا بروقت پتہ چل سکے۔کم از کم وہ افراد چھ مہینے کے بعد ضرور چیک۔اپ کرائیں جن کی عمر 40 سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔آج کل بہت سے مسائل کا سامنا کرتے کرتے بہت سے افراد ذہنی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں،اس لیے ضروری ہے کہ ماہرین نفسیات کی تعداد بھی بڑھائی جائے نیز نفسیاتی امراض کی ادویات کی مریض تک رسائی بھی ضروری ہونی چاہیے۔پاکستان میں لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے بھی امراض کا شکار ہوناآسان ہو جاتا ہے۔لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے بڑے امراض کا علاج بھی معمولی ٹوٹکوں یا جھاڑ پھونک سے کیا جاتا ہے،اس عمل سے معمولی مرض بھی بڑی بیماری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افرادکو اپنے اپنے شعبے کا ماہر ہونا ضروری ہے ورنہ معمولی مرض سے موت بھی ہو جاتی ہے۔اتائی ڈاکٹر بھی صحت کے دشمن ہیں،اسی لیے ضروری ہے کہ اتائی ڈاکٹروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔صحت کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔
9









