درحقیقت خالد نجیب خاں عورت کارڈ کہاں جا پہنچا ہے ؟
درحقیقت
خالد نجیب خاں
عورت کارڈ کہاں جا پہنچا ہے ؟
پاکستان کے تقریبا تمام بڑے اردو اخبارات نے پنجاب کی ’’نام نہاد‘‘ وزیر اعلی کا شکوہ سپرلیڈ کے طورپرشائع کیا ہے۔
وزیر اعلی کو شکایت ہے کہ “وہ” مجھ پر آوازے کستے ہیں،ذو معنی جملے بولتے ہیں، کیا کوئی خاتون اس کو قبول کرے گی؟
کہتے ہیں کہ اونٹ جب پہاڑ کے نیچے آتا ہے تو پھراُسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنا اونچا ہے۔ پنجاب کی نام نہاد وزیراعلی مریم نواز صاحبہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے اپنی مخالف سیاسی جماعت کے وزیراعلی اور وزیر اعظم پر جس طرح تنقید کیا کرتی تھیں تواُنہیں کبھی اِس بات کا خیال نہیں آیا کہ جو زبان وہ خود استعمال کر رہی ہیں وہ کسی معززاورمہذب خاتون کو زیب نہیں دیتی۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں مریم نواز صاحبہ نے بطور وزیراعلی ماڈلنگ اور ٹک ٹاک کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ جن کاموں کا وہ زبردستی کریڈٹ حاصل کررہی ہیں وہ پائپ لائن میں چلنے والے منصوبے ہیں جوکئی سال پہلے شروع ہوئے اور اب مکمل ہو گئے۔ اس کے علاوہ ان کا کریڈٹ ہے کہ سکولوں کا نصاب تعلیم بدلا جا رہا ہے،تاکہ بچے قرآن پاک ناظرہ اورترجمہ نہ پڑھیں اوراپنے اللہ ، دین اور حقوق سے آشنا نہ ہوسکیں۔سرکاری سکولوں کو آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ ان کے سوا کوئی اور کر ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ اِس حکم پر دستخط توبے شک ان کے ہی ہیں مگران کی گردن پرنوکِ خنجر کسی اور کی تھی ۔اپنی جان بچانے کے لئے اسلام نے جھوٹ بولنے یا مردار کھانے کی چھوٹ بےشک دے رکھی ہے مگریہ چھوٹ حکمرانوں کے لئے توہرگز نہیں ہے۔ اس بات کو کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا ہے ان کا تعلق بھی حکمرانوں کے اُس گروہ سے ہے جو پاکستان میں اسی طرح حکومت کرنے آتے ہیں جیسے بہت سے غریب محنت کش مزدور مزدوری کرنے دیہاتوں سے کراچی اورلاہور جیسے بڑے شہروں میں آجاتے ہیں۔یہ کماتے یہاں پر ہیں اور بچاتے اور پہنچاتےاپنے دیس میں ہیں ۔ ان کے والد صاحب ایک مرتبہ پھر اپنے گھر یعنی لندن پہنچ چکے ہیں یا پہنچنے والے ہیں ،کیونکہ فی الحال پاکستان میں اُنہیں کوئی کام دھندہ نہیں مل سکا ہے ۔ بات تو مریم نواز صاحبہ کے کاموں کی ہو رہی تھی ،بہرحال انہوں نے یہ فیصلے چند ڈالرز کے حصول کے لئے کئے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ مشکل فیصلے ہیں حالانکہ یہ غلط فیصلے ہیں۔انہیں اپناہردکھ بڑا اور قابل رحم محسوس ہوتا ہے جس سے نجات حاصل کرانااُن کے نزدیک پوری قوم پر واجب ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں عام دفاتر میں جہاں کہیں بھی خواتین کام کررہی ہوتی ہیں، اُنہیں بطور خاتون کچھ رعایتیں دی جاتی ہیں، مثال کے طور پر وہ رات کی شفٹ میں کام نہیں کرتیں، اُن سے مردوں کے مقابلے میں زیادہ مشقت والا کام نہیں لیا جاتا۔ دوراُن کار ان کی طرف اگر کوئی گھور کر دیکھے تو اس کا سدباب کیا جاتا ہے۔فیکٹریوں، ورکشاپس، سکولز وغیرہ میں خاص طور ان باتوں کا خیال کیا جاتا ہے۔ ہاسپٹلز، بنکوں اور صحافت کے میدان میں یہ پروٹوکول بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اِن شعبوں میں خواتین کی بے حرمتی کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے بلکہ اِن شعبوں کی خواتین ایسے معاملات اول تو پیش آنے ہی نہیں دیتیں اورخدانخواستہ اگر پیش آجائیں تواُس سے نبٹنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔تاہم بعض خواتین ضرورت یا بلا ضرورت اپنے خاتون ہونے کا فائدہ اُٹھاتی ہیں۔اصطلاح میں اسے وومن کارڈ استعمال کرنا کہا جاتا ہے ۔ خواتین کارڈ استعمال کرنے والی خواتین جس کسی شعبے میں بھی ہوتی ہیں، حالات کی وجہ سے مجبور ہو کر نوکری کررہی ہوتی ہیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق وہ اپنے اندر کی کمزوری کوچھپانے اور خود کو طاقتور ظاہر کرنے کے لئے ایسا کرتی ہیں۔ان کی ایسی حرکتوں کی وجہ سے اُن کے ساتھی کارکن اکثراُن سے دور ہی رہتے ہیں کہ اُنہیں اپنی عزت پیاری ہوتی ہے۔مردوں کا اُن سے یہ گریز اُنہیں اِس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ بہت طاقتور ہیں۔ایسے رویہ کی حامل خواتین عام طور پر گریڈ 15 سے اوپر نہیں ہوتیں مگر کبھی کبھارآفیسر گریڈ میں بھی موجود ہوتی ہیں۔
مریم نواز کی یہ شکایت جان کرکم از کم مجھے یوں لگا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کا عہدہ بھی گریڈ 15 سے اوپر کا نہیں ہے مگرجب ان کی مراعات کی طرف نظر دوڑائی جائے تو یہ عہدہ 115 گریڈ کا لگتا ہے۔
ماضی کے ایک وزیراعلی کا قول زریں ہے کہ” ڈگری ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا نقلی ” اسی وزن پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وزیراعلی، وزیراعلی ہوتا ہے،خاتون ہویا مرد عقلمند ہو عقلبند۔
پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کے بارے میں مریم نواز صاحبہ کی اپنی جماعت کے سربراہ اور ان کے اپنے والد محترم کے بیانات تو تاریخ کا حصہ ہیں مگر تاریخ میں یہ کہیں بھی درج نہیں ہے کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم نے اپنی یا اپنی والدہ کے لیے استعمال کیے گئے مخرب اخلاق جملوں پر کسی پلیٹ فارم پراِس طرح شکایت کی ہویا اخبارت نے اسے سپر لیڈ کے طور پر شائع کیا ہو۔ واضح رہے کہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلی کی جماعت اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کی جماعت جو کبھی ایک دوسرے کی مخالف تھیں،آج مل کر حکومت کررہی ہیں۔مریم نواز صاحبہ نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے متاثر ہیں، ان کے جیسا بننا چاہتی ہیں تو پھر انہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ انہوں نے اتنی عزت ایسی شکایتیں لگا کر یا کسی کا آلہ کار بن کر تو نہیں کمائی تھی۔
ذرا غور کریں آپ میں اوراُن میں کیا قدر مشترک ہے سوائے اس کے کہ دونوں ہی وزیراعظم کی بیٹیاں ہیں۔
عورت کارڈ استعمال کرنا مجبوراورکمزور خواتین کا کام ہوتا ہے، حکمران خواتین کا نہیں۔
شاید آپ یہ بات بخوبی جانتی ہیں کہ آپ حقیقت میں حکمران خاتون ہیں ہی نہیں۔