ریڈیو پاکستان سرگودھا کے زیر اہتمام کتاب ” خوشبوءے تبسم ً کی تقریب رونمائ کاانعقاد
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
ریڈیو پاکستان سرگودھا ایف ایم 101 کے پروگرام “ادب نامہ” میں دبئی میں مقیم معروف شاعر و ادیب سلیمان جاذب کی کتاب “ خوشبوئے تبسم “ کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کتاب پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی وفات کے بعد ان کے فن اور شخصیت کے حوالے سے نامور قلمکاروں کی طرف سے لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے ۔پروگرام کی میزبان منزہ انور گوئندی تھیں جبکہ پروڈیوسر فریحہ کنول اور سٹوڈیو انجینئر نعمان شفیق تھے ۔
صاحب کتاب سلیمان جاذب کے ساتھ معاون کتاب ذوالفقار احسن بھی پروگرام میں بطور خاص شریک ہوئے۔شرکائےگفتگو میں نامور قلمکار ممتاز عارف ، پروفیسر یوسف خالد ، ممتاز قلمکارہ نجمہ منصور, معروف ادیبہ ڈاکٹر ثمینہ گل ، ڈاکٹر مرتضی ا حسن شیرازی ، ارشد محمود ارشد، ڈاکٹر یوسف ملک ، محمد علی تبسم ، نامور سوشل ورکر عابدہ نذر، مس رحما اور نعمان مبشر شامل تھے۔پروگرام کے آغاز میں منزہ انور گوئیندی نے کہا کہ آج کی اس محفل میں ہم الفاظ نہیں بلکہ جذبات پیش کریں گے کیونکہ ڈاکٹر ہارون الرشید نے سب کو محبتیں بانٹیں۔ پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے جناب ممتاز عارف نے کہا کہ خوش بوئے تبسم کی ایک ڈیڑھ ماہ کے اندر اشاعت ایک بہترین اور مستحسن عمل ہے جس پر سلیمان جاذب مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم جیسا متحرک لکھاری اورانسان دوبارہ میسر آنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ان کا شمار دبستانِ سرگودھا میں سب سے زیادہ الفاظ تحریر کرنے والی شخصیات میں ہوتا ہے ۔ پروفیسر یوسف خالد نے کہا کہ ہارون الرشید تبسم کی شخصیت کی بے شمار جہات ہیں جن کا احاطہ کرنا نہایت مشکل ہے ان کے کئی اہداف تھے جن کو نہایت جانفشانی اور خوش اسلوبی سے نباہتے ہوئے وہ ایسی مثال قائم کر گئے ہیں جس کی نظیر نہیں ملتی ۔
سلیمان جاذب نے کہا کہ ہارون الرشید تبسم نہ صرف ان کے استاد تھے بلکہ رہنما بھی تھے اور ادبی سفر میں ان کا ساتھ اور رہنمائی ناقابل فراموش ہے ۔ ذوالفقار احسن نے کہا ہارون الرشید تبسم چلتی پھرتی ادبی تاریخ تھے وہ خود بھی متحرک تھے اور دوسروں کو بھی تحریک دینے میں پیش پیش تھے ۔ سب کو عزت دیتے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں پر لکھتے رہے ۔ نجمہ منصور نے کہا کہ اتنے کم وقت میں اتنے لوگوں سے مضامین لکھوانا از خود ایک تعریفی کام ہے جس کا سہرا سلیمان جاذب کے سر ہے ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی وفات کے بعد یہ پہلی کتاب ہے جو منظر عام پر آئی ہے یقیناً اس میں ان کا روحانی فیض بھی شامل ہے ۔ ڈاکٹر ثمینہ گل نے کہا کہ وہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی شاگرد ہیں جس پر انہیں فخر ہے ۔ وہ سب کے کام کو سراہتے اور سب کی حیثیت کو مانتے تھے ۔ ڈاکٹر مرتضیٰ شیرازی نے کہا کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ایک زندگی میں کئی زندگیاں گزار کر اس دنیا سے گئے ہیں ان کے جانے کے بعد ادبی فضا سوگوار ہے لیکن یہ کتاب نئی روح پھونک رہی ہے جس سے افکار تبسم کے فروغ کی تحریک کو بڑی مددملے گی ۔ ارشد محمود ارشد نے کہا پوری ادبی تاریخ میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم جیسی شخصیت نہیں ملتی وہ سب سے یکساں محبت کرتے تھے اور سب کے کام کو سراہتے تھے ۔ڈ اکٹریوسف ملک نے کہا ڈاکڑ ہارون رشید تبسم سچے عاشق رسول، محب وطن اور اقبال کے شیدائی تھے ، عابدہ نذر نے کہا کہ آج کا پروگرام ایک گلدستہ ہے اور انہیں خوشی ہے کہ وہ بھی اس کا حصہ ہیں بڑے قلمکاروں سے فیض حاصل کرنا بڑے نصیب کی بات ہے اور وہ خوش نصیب ہیں کہ تناور درختوں سے ان کی علمی آبیاری ہو رہی ہے ۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے پوتے محمد علی تبسم نے کہا کہ ان کے دادا جس انداز سے میری تربیت کر گئے ہیں اور میرے لئے جو اصول وضع کر گئے ہیں وہ انہیں ہمیشہ اپنی زندگی میں لاگو رکھیں گے۔مس رحما اور نعمان مبشر نے کہا کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے دلوں کو فتح کیا ہے ان کا اس دنیا سے چلے جانا دکھ کا باعث ہے۔