6

ہارون آباد: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں سروے کا عمل جاری، عملے کی کمی دور کرنے کے لیے اعلیٰ حکام کو مراسلہ ریٹیلرز کی جانب سے کٹوتی

ہارون آباد: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں سروے کا عمل جاری، عملے کی کمی دور کرنے کے لیے اعلیٰ حکام کو مراسلہ ریٹیلرز کی جانب سے کٹوتی ناقابل برداشت، شکایات پر متعدد ڈیوائسز بلاک کر دی گئیں:اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیاقت علی بھٹی کی میڈیا سے گفتگو۔۔۔ہارون آباد (تحصیل رپورٹر) اسسٹنٹ ڈائریکٹر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) ہارون آباد، لیاقت علی بھٹی نے کہا ہے کہ دفتر میں مستحق خواتین کے رجسٹریشن سروے کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم عملے کی کمی کے باعث کام کی رفتار میں کچھ رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔عملے کی کمی اور سروے کی صورتحا لیاقت علی بھٹی نے بتایا کہ تحصیل بھر سے سروے کے لیے آنے والی خواتین کا رش زیادہ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں عملہ کم ہے، جس کی وجہ سے سروے سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ مزید اسٹاف تعینات کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی نئے عملے کی تعیناتی کے بعد سروے کا عمل اپنی مکمل استعداد کے ساتھ دوبارہ شروع ہو جائے گا جس سے خواتین کو طویل انتظار سے نجات ملے گی۔خواتین کے لیے اہم ہدایات سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ پروگرام کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غیر تصدیق شدہ خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ:نااہل قرار دی گئی خواتین بار بار دفتر کے چکر لگا کر زحمت اٹھانے کے بجائے پہلے 8171 ویب پورٹل یا ایپ کے ذریعے اپنی اہلیت چیک کریں۔صرف وہی خواتین سروے کے لیے تشریف لائیں جن کا ڈیٹا اپ ڈیٹ ہونے والا ہے یا جو پورٹل کے مطابق اہل ہیں۔ایسا کرنے سے دفتر میں غیر ضروری رش کم ہوگا اور حق دار خواتین کا کام جلد مکمل ہو سکے گا۔بدعنوانی کے خلاف کارروائی ریٹیلرز کی جانب سے رقم کی کٹوتی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ مستحق خواتین کے پیسوں پر ڈاکہ ڈالنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ شکایات موصول ہونے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے متعدد ریٹیلرز کی ڈیوائسز بلاک کر دی گئی ہیں۔شکایات کا ازالہ لیاقت علی بھٹی نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی خاتون کو رقم کی ادائیگی کے دوران کٹوتی یا کسی اور قسم کی دشواری کا سامنا ہے، تو وہ کسی بھی ایجنٹ کے ڈر میں آنے کے بجائے براہ راست بی آئی ایس پی (BISP) دفتر میں ان سے رجوع کر سکتی ہیں۔ انتظامیہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں