*چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کا جامعہ کراچی کا دورہ*
*کراچی کا دورہ جامعہ کراچی کے بغیر نامکمل ہے۔ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے گزشتہ روز جامعہ کراچی کا دورہ کیا۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عمران احمد صدیقی نے چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد، انچارج ریجنل ڈائریکٹر سلیمان احمد اور دیگر معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔ فروری 2026 میں اسلام آباد میں بطور چیئرمین ایچ ای سی پاکستان ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد یہ انکا شہرِ کراچی کا پہلا دورہ تھا۔ اس موقع پر وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس کے دوران چیئرمین ایچ ای سی نے مختلف فیکلٹیز کے ڈینز سے ملاقات کی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے مہمان وفد کو جامعہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور تعلیمی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی نے عالمی جامعات کی درجہ بندی میں نئی اور اعلیٰ پوزیشن حاصل کی ہے اور مزید بہتری کے لئے تحقیق کے فروغ اور انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے وسیع تجربے اور علمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری و نجی شعبے کی جامعات ان کے تجربات سے بھرپور استفادہ کریں گی۔ چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جامعہ کراچی کے حکام اور مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جامعہ کے ساتھ قریبی تعاون اور مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ کو سراہا۔ انہوں نے کہا، “جامعہ کراچی صوبے اور دیگر شہروں کی متعدد جامعات کے لیے مادرِ علمی ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے فارغ التحصیل افراد ملک کے ہر شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اہم فیصلہ سازی کے پلیٹ فارمز کا حصہ ہیں، جبکہ متعدد معتبر اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ کراچی کا دورہ جامعہ کراچی کے بغیر نامکمل ہے۔” پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے مزید کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی ایک فعال اور متحرک منتظم ہیں اور انہیں تدریس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کا بھی وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی اور معیاری تحقیق کسی بھی جامعہ کے دو بنیادی ستون ہوتے ہیں اور جامعہ کراچی نے ان دونوں شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے، جو نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی کی طرح پنجاب یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، جامعہ بلوچستان اور قائداعظم یونیورسٹی نے بھی معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان اداروں کی موجودگی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے، جو ان کی محنت، لگن اور عزم کا مظہر ہے۔ چیئرمین ایچ ای سی نے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ سطح پر سوچ میں تبدیلی ناگزیر ہے تاکہ تمام اہداف حاصل کیے جا سکیں اور معاشرتی مسائل کا مستقل حل ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی جامعات اپنی عالمی درجہ بندی بہتر بنا سکتی ہیں اگر وہ اس کی اہمیت کو تسلیم کریں، کیونکہ یہ ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایچ ای سی پاکستان اپنی بعض سابقہ پالیسیوں میں اہم تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے اور کسی حتمی فیصلے سے قبل سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز سے مشاورت کی جائے گی۔ دریں اثنا، جامعہ کراچی کے ڈین فیکلٹی آف فارمیسی اینڈ فارماسیوٹیکل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر محمد حارث شعیب نے کہا کہ ایچ ای سی پاکستان کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلیاں پاکستانی جامعات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔