قریشی روڈ کراس ایک ہفتے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار، شہریوں کی مشکلات میں اضافہ
قریشی روڈ کراس ایک ہفتے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار، شہریوں کی مشکلات میں اضافہ
آخر ذمہ داری کون لے گا؟ انتظامیہ کسی بڑے حادثے کی منتظر؟
سکھر(بیورورپورٹ)سکھر شہر کے قدیم اور مصروف ترین علاقے پرانا سکھر میں واقع قریشی روڈ کا کراس گزشتہ ایک ہفتے سے شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متاثرہ کراس ڈاکٹر چاوله کلینک اور ایک نجی اسکول کے قریب واقع ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں شہریوں، مریضوں اور طلبہ کا گزر ہوتا ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق کراس مکمل طور پر خستہ حالی کا شکار ہوچکا ہے جبکہ سڑک کا آدھا حصہ گڑھے میں تبدیل ہو چکا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مرمت کا کام شروع نہ کیا گیا تو کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ کراس تین مختلف یونین کونسلز کی حدود میں آتا ہے، جس کے باعث ذمہ داری کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ادارہ اس کی مرمت کے لیے آگے نہیں آ رہا۔شہریوں کے مطابق ٹاؤن کمیٹی جیے شاہ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے، اس کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔شہری حلقوں نے میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی بہتری اور بنیادی مسائل کے حل میں انتظامیہ کا کردار نظر نہیں آ رہا۔ عوام کا کہنا ہے کہ کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی میئر صرف تقریبات اور پارٹیوں میں شرکت تک محدود دکھائی دیتے ہیں جبکہ شہری مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
علاقہ مکینوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ میئر سکھر شہر میں موجود ہیں یا نہیں، کیونکہ شہریوں کو مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح ذمہ دار نظر نہیں آ رہا۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قریشی روڈ کراس کی فوری مرمت کرائی جائے، سڑک کی ازسرنو تعمیر کی جائے اور متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی غفلت کا تدارک ممکن ہو سکے۔اہل علاقہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔