اکثر لوگ اس بحث میں حصہ لے رہے ہیں کہ ایران دو پائلٹس کو، جو جہاز سے Eject ہوئے تھے، زندہ سلامت پکڑ کیوں نہ سکا
اکثر لوگ اس بحث میں حصہ لے رہے ہیں کہ ایران دو پائلٹس کو، جو جہاز سے Eject ہوئے تھے،
زندہ سلامت پکڑ کیوں نہ سکا
اور امریکی انہیں کیسے ریسکیو کرنے میں کامیاب ہو گئے
بعض لوگ اسے ای-ران کی شکست کے طور پر پیش کر رہے ہیں،
مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں
ایران اک وسیع رقبے والا ملک ہے،
جہاں کسی بھی مقام پر گرنے والے پائلٹس کو فوری تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا
خاص طور پر اگر مقام درست طور پر معلوم نہ ہو
ابتدا میں خیال کیا گیا کہ پائلٹس ملک کے جنوبی حصے میں Eject ہوئے
مگر یہ معلومات ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتیں
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ جنگی پائلٹس عام شہریوں کی طرح بے بس نہیں ہوتے
انہیں Survival, Evasion, Resistance, Escape (SERE) جیسی خصوصی ٹریننگ دی جاتی ہے
ان کے پاس محدود مگر ضروری راشن، پانی، طبی سامان، اور جدید GPS ٹریکرز ہوتے ہیں
وہ اپنی لوکیشن خفیہ رکھتے ہوئے اپنی فوج سے مسلسل رابطے میں رہ سکتے ہیں
ایسی صورتحال میں پائلٹس کھلے عام ادھر ادھر دیہاتوں چوراہوں میں نہیں گھومتے
بلکہ کسی محفوظ اور موزوں جگہ چھپ کر اپنی سرگرمیاں کم سے کم رکھتے ہیں
تا کہ دشمن کی نظر سے بچ سکیں
دوسری طرف، تلاش کرنے والی فوج بھی اکثر قیاس آرائیوں اور محدود معلومات پر کام کر رہی ہوتی ہے
جس سے سرچ آپریشن پیچیدہ ہو جاتا ہے
مزید یہ کہ دشمن کے علاقے میں سرچ آپریشن ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے
زمینی افواج کو خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کی لوکیشن ظاہر نہ ہو جائے اور ان پر فضائی حملہ نہ ہو جائے
اسی لیے کئی بار تلاش کا عمل سست یا محتاط ہوتا ہے
اس لئے انہیں پکڑنا ایسا سیدھا معامله نہیں ہوتا
ابھی نندن والے کیس میں وہ آبادی والے علاقے میں اجیکٹ ہوا تھا
البتہ امریکی فوج بغیر کسی بڑی جھڑپ کے اپنے پائلٹس کو نکالنے میں کامیاب رہی،
تو یہ ان کی اک بڑی کامیابی ضرور ہے