اقوامِ متحدہ میں بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو روس، چین اور فرانس نے مشترکہ طور خارج کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو روس، چین اور فرانس نے مشترکہ طور خارج کر دیا ہے۔
یہ قرارداد ایک کھلی سازش تھی، جو امریکہ اور س راا ی ل کی ہدایت پر تیار کی گئی تھی۔ اس کا مقصد واضح تھا آبنائے ہرمز پر فوجی کارروائی کو اقوامِ متحدہ کی مہر کے ساتھ “جائز” قرار دیا جائے، دنیا بھر کے ممالک کو مجبور کر کے ایران کے خلاف میدان میں اتارا جائے، اور طاقت کے زور پر آبنائے ہرمز کو کھلوایا جائے۔
مگر یہ سازش کامیاب نہیں ہو سکی۔روس، چین اور فرانس نے کہا کہ قرارداد کے الفاظ درست نہیں ہیں ، اور جنگی کارروائی سے حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔اسی سبب یہ قرارداد ووٹنگ کے مرحلے تک نہ پہنچ سکی۔ امید کی جا رہی ہے ایک ہفتہ کے بعد دوبارہ رائے شماری کے لیے اس قرار داد کو پیش کیا جائے گا
روس اور چین کی جانب سے اسے خارج کرنا تو متوقع تھا، مگر فرانس کا ان کے ساتھ کھڑا ہونا ایک واضح اور سخت پیغام ہے کہ یورپ اب اندھا دھند امریکی جنگی ایجنڈے کا حصہ بننے سے انکار کر رہا ہے۔ جو واشنگٹن کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے جبکہ ایران کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔*