October 5, 2026

1971 سے 2026 تک پاکستانی قرضہ جات کی تفصیلات ملاحظہ کیجیے

Screenshot_2026-04-05_142609

‏1971 سے 2026 تک پاکستانی قرضہ جات کی تفصیلات ملاحظہ کیجیے

شروع کرتے ہیں 1971ء سے کہ جب پاکستان دو لخت ہوا اور 1971 ء میں جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی حکومت آئی اس وقت پاکستان پر کل بیرونی قرضہ چار ارب ڈالر تھا ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت کے بعد 1977ء میں یہ قرضہ ساڑھے سات ارب ڈالر ہوچکا تھا اس کے بعد جنرل ضیاء کا دور 1977ء سے 1987 ء کے دوران یہ قرضہ 16 ارب ڈالر ہوگیا اس کے بعد بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت قاٸم ہوئی 1990ء میں جب بینظیر کو معزول کیا گیا تو اس وقت یہ قرضہ 22 ارب ڈالر ہوچکا تھا اس کے بعد میاں محمد نواز شریف کی پہلی حکومت قائم ہوئی 1993ء میں میاں محمد نواز شریف کو معزول کیا گیا اس وقت پاکستان کا قرضہ 25 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا 1993ء سے 1996ء تک بینظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت رہا ہے اور جب 1996 ء میں ینظیر بھٹو کو دوسری بار معزول کیا گیا تو پاکستان کا کل بیرونی قرضہ تقریبا” 30 ارب ڈالر ہوچکا تھا اس کے بعد میاں محمد نواز شریف کی دوسری حکومت قائم ہوئی 1999ء میں جب ان کی حکومت ختم کی گٸ تو یہ قرض 39 ارب ڈالر تھا جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت 1999ء سے2007 ء تک یہ قرضہ 41 ارب ڈالر تک پہنچا یعنی دس سال میں کل دو ارب ڈالر قرض لیا گیا 2008 ء سے 2013 ء تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی 2013 ء میں جب پیپلز پارٹی نے گورنمنٹ میاں محمد نواز شریف کے سپرد کی تو اسوقت قرض 60 ارب ڈالر ہوچکا تھا 2018 میں جب میاں محمد نواز شریف نے حکومت چھوڑی تو یہ قرض 97 ارب ڈالر تھا 2018 ء سے 2022 ء تک پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی حکومت جب ختم کی گئی تو یہ قرض 127 ارب ڈالر ہوچکا تھا اس کے بعد 2022ء سے 2026ء تک یہ قرض 138 ارب ڈالر ہوچکا ہے اور ابھی اس حکومت کے تین سال باقی ہیں تو اگے کی فلم کا اندازہ أپ خود کرسکتے ہیں

پاکستان کے بیرونی قرضہ جات کی مکمل تفصیل نیچے درج کی ہے ملاحظہ کریں
دور / حکومت

پاکستان پیپلز پارٹی کا دور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت
1971–1977
4-7.5
+3.5

جنرل ضیاء الحق کی حکومت

1977–1987
7.5_16
+8.5

بینظیر بھٹو کا پہلا دور (پاکستان پیپلز پارٹی)
1988–1990
16_22
+6
میاں محمد نواز شریف کا پہلا دور (مسلم لیگ ن)
1990–1993
22-25
+3
بینظیر بھٹو (دوسرا دور)
1993–1996
25_30
+5
میاں محمد نواز شریف (دوسرا دور)
1997–1999
30_39
+9
جنرل پرویز مشرف کی حکومت

1999–2007
39_41
+2
آصف علی زرداری کا دور حکومت (پاکستان پیپلز پارٹی)
2008–2013
41_60
+19

میاں محمد نواز شریف (تیسرا دور)

2013–2018
60_97
+37
عمران خان کا دور حکومت
(پاکستان تحریک انصاف)
2018–2022
97_127
+30
موجودہ حکومت (پاکستان مسلم لیگ ن)

2022–2026
127_138
+11

سب سے کم اضافہ:جنرل پرویز مشرف (+2 ارب ڈالر)

سب سے زیادہ اضافہ: میاں محمد نواز شریف (2013–2018) +37 ارب

دوسرا بڑا اضافہ: عمران خان +30 ارب
2008 کے بعد قرضہ تیزی سے بڑھنا شروع ہوا

نوٹ: یہ ایک مکمل طور پر غیر جانبدار اور ایکچویل فیکٹس اینڈ فگرز پر مبنی ریکارڈ ہے جس میں ہر حکمران کے دور حکومت کی ابتدا اور انتہا کے اعداد و شمار لمپ سم کی صورت پیش کیے گئے ہیں نہ ہی اس میں یہ درج ہے کہ کونسا اور کتنا قرض کس مد میں لیا گیا نمبرز میں چند ملین ڈالرز کا فرق ہوسکتا ہے اس قرض میں صرف ورلڈ بینک اور IMF سے لیے گے قرضے شامل نہیں بلکہ دیگر ممالک اور مالیاتی اداروں سے حاصل کیے گے قرضوں کا ٹوٹل شامل ہے

نیز اس قرضہ جات کی مالیت میں وہ اضافہ بھی شامل ہے جو پچھلی حکومت کے چھوڑے ہوئے کل قرضوں پر سود کی رقم بنتی ہے مثال کے طور پر اگر ایک حکومت 15 ارب ڈالر کا قرض چھوڑ گی ہے تو ایک سال میں 7 فیصد کے حساب سے اس کا سود ہی 1 ارب بن کر قرض کی رقم میں شامل ہو جاۓ گا گویا جتنا بڑا قرض اتنا ہی بڑا سود اگلے حکمران کے سر پڑ کر اس کے کھاتے میں جائے گا
اس تحریر میں وہ رقم بھی شامل نہیں ہے جو کسی حکمران کے دور میں ملکی قرض اتارنے کے لیے ادا کی گئی ہو
سود در سود کے اس چکر میں ہم بری طرح پھنس چکے ہیں حالات اور واقعات سے تو ایسا نہیں لگتا کہ کوئی بھی حکمران اس قرض کو اتارنے کی خلوص دل سے کوئی حکمت عملی بناتا ہو اللّٰہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو