October 28, 2026

گداگری کی آڑ میں کاروبار اور جرائم ازقلم غنی محمود قصوری

IMG-20240924-WA0436

گداگری کی آڑ میں کاروبار اور جرائم

ازقلم غنی محمود قصوری

آج کل کچھ عرصے سے ایک بات بہت زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے جس میں بظاہر نقاب پوش باشرع عورتیں ہر چوک چوراہے پر کھڑی ہو کر بھیک مانگ رہی ہوتی ہیں
بڑے شہروں میں اشارے پر گاڑی یا بائیک رکتے ہی چھوٹا سا بچہ گود میں تھامے نقاب پوش عورت یا کوئی چھوٹا بچہ سامنے آئے گا اور اللہ رسول کے واسطے دینے کیساتھ کچھ دردمندانہ جملے بولے گا اور آپ کی جیب سے پیسے نکلوائے گا آپ نا چاہتے ہوئے بھی شاید انکار نا کر پائیں کیونکہ عورت کے ہاتھ میں چھوٹا معصوم شیر خوار بچہ آپکو درد سے چور کر دے گا اور آپ پیسے دینے پر مجبور ہو جائیں گے
اسی طرح چھوٹے سے معصوم بچے کے آپ کے آگے پھیلے ہوئے ہاتھ آپ کو بھیک دینے پر مجبور کر دینگے
اکثر دیکھنے سے ان عورتوں کا حلیہ اور زبان کی روانی بتائے گی کہ یہ عورتیں مجبور نہیں بلکہ پیشہ ور بھکاری ہیں اور بعض تو پڑھی لکھی بھی ہوتی ہیں اور کچھ تو فل میک اپ میں بھی
غور کیجئے گا بسا اوقات ان کی چپلز و عبایا وغیرہ برانڈڈ ہونگے اور ان میں سے بیشتر عورتیں 25 سال سے بھی کم عمر کی ہونگیں

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے جہاں نماز روزہ و دیگر امور پر زور دیا ہے وہاں صدقہ خیرات اور مساکین کی ضروریات کو پوری کرنے کا خاص حکم دیا ہے جو کہ حقوق العباد میں اولین سطح پر ہے
مگر دوسری جانب اسلام نے حق دار کو اس کا حق ادا نا کرنے پر بھی بڑی وعید دی ہے
اسلام نے صدقہ و خیرات کا اولین اور پہلا حقدار آپ کی فیملی کے لوگوں،گلی محلے کے قریبی لوگوں اور قریبی رشتہ داروں کو بتایا ہے کیونکہ جہاں بھی صدقہ خیرات کا حکم ہوا وہاں اہل کا لفظ استعمال ہوا یعنی کہ پہلے اور اولین حقدار یہی لوگ ہیں اس کے بعد اگر آپ کے پاس اتنی طاقت ہے کہ ان حقداروں کو حق آپ نے ادا کر دیا تو پھر آپ دیگر جماعتوں و بھکاریوں کو چندہ و صدقہ خیرات کریں وگرنہ ہر صورت وہی لوگ آپکے صدقہ خیرات کے حقدار ہیں
اگر آپ قرآن و حدیث کی رو سے صدقہ خیرات کے اصل حقدار تک ان کا حق نہیں پہنچائیں گے تو کیسے رب رحمت کے طلبگار بنیں گے؟

آج گدا گری ایک پیشہ بن چکا ہیں جن میں جوان عورتوں اور چھوٹے بچوں کا استعمال کیا جاتا ہے
گداگری ایک لعنت ہے جو معاشرے میں بہت بڑا بگاڑ لاتی ہے اس کی ممانعت آئین پاکستان میں بھی ہے اور اسلام نے بھی اس کو سخت برا جانا ہے
صحیح مسلم کی حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جس نے لوگوں سے ان کا مال زیادہ جمع کرنے کی نیت سے مانگا وہ آگ انگارے مانگ رہا ہے چاہے وہ کم مانگے یا زیادہ
اسی طرح ابوداؤد کی روایت کے مطابق
حجتہ الوداع کے موقع پر دو افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقات تقسیم فرما رہے تھے،ان آنے والے دونوں نے دیکھا تو انہوں نے بھی مانگا جس پر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا جو کہ تندرست و توانا تھے اور کمانے کے لائق تھے
آپ رحمت اللعالمین نے فرمایا اگر میں چاہوں تو اس میں سے تم دونوں کو بھی دے سکتا ہوں لیکن سن لو کہ اس میں کسی مال دار اور کمانے کے لائق تندرست و توانا کا کوئی حصہ نہیں
ثابت ہوا جو شحض کمانے کے لائق ہے اور صحت و تندرستی کیساتھ جی رہا ہے وہ محنت مزدوری کرے اگر اس کے باوجود بھی اس کا گزارہ نہیں ہوتا تو ایسے لوگ مساکین کہلاتے ہیں اور ان مساکین کو صدقہ خیرات دینا لازم ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا اولین حقدار اہل

چوک چوراہے پر کھڑی یہ عورت اکیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا نیٹ ورک ہوتا ہے جو اسے تحفظ دے کر اپنا پورا حصہ وصول کرتا ہے
بہت سے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں جن میں ایسی عورتیں بھیک مانگنے کی آڑ میں جسم فروشی کا دھندہ کرتی ہیں اور بعض تو ڈکیت گینگ کیلئے جاسوسی اور سہولت کاری کا کام بھی کرتی ہیں
معاذاللہ میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا ہو سکتا ہے کچھ عورتیں ایسی نا ہو مگر سرکاری ریکارڈ جو کہ مختلف تھانوں سے جاری ہوا، ان کے مطابق ایسی وارداتوں میں ایسی عورتوں کا استعمال کیا گیا ہے
میں یہ بھی نہیں کہتا کہ ساری عورتیں خود بھیک مانگتی ہونگی
ہوسکتا ہے بعض عورتوں کو ان کے نشئی خاوند و ماں باپ اس کام پر مجبور کرکے لگاتے ہو
مگر اصل مسئلہ ہے اس کام کا تدراک کیسے کیا جائے؟
اس کے لئے گزشتہ کچھ دنوں پہلے پنجاب کابینہ نے ایک قانون سازی کی ہے
The Punjab Vagrancy Ordinance 1958
میں ترامیم کرکے بھکاری مافیا کے خلاف نئی قانون سازی کی گئی ہے جس میں بچوں سے بھیک منگوانے پر مافیا چیف گینگ کو 5 سے 7 سال قید اور 5 لاکھ سے 7 لاکھ روپیہ جرمانہ ہو گا اور جرمانے کی عدم ادائیگی پر مذید 1 سال کی سزا ہو گی
یہ بہت اچھی قانون سازی ہے اس پر فوری عملدرآمد کروانے کی ضرورت ہے
اس پر عمل درآمد کروا کر پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اصل حقدار لوگوں کو ان تک انکے صدقات و خیرات پہنچا کر رب کی رحمت کا قرب حاصل کیا جائے
دوسری طرف چوکوں چوراہوں میں کھڑی عورت کو دارلامان بیجھا جائے اور تفتیش کی جائے کہ جو بچے ان کے پاس ہیں کیا وہ انہی کے ہیں کہیں وہ بچے اغواء شدہ تو نہیں؟
کیونکہ ایک عرصے سے شیر خوار بچے اغواء ہو رہے ہیں جنہیں بیرون ملک بیچے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے
نیز ان کے پیچھے جو لوگ ان سے بھیک منگواتے ہیں ان کو پکڑ کر قانون کے مطابق سزا دی جائے اور ان عورتوں کو ہنر سکھلا کر معاشرے کا بہترین فرد بنایا جائے جو کہ ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے