October 28, 2026

پنجاب بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹر مین تعینات ریونیو آفیسر کو محکمانہ ہدایت جاری کر دی گی ہے جسکے تحت کسی عدالتی مقدمہ مین حکم امتناع/ سٹیٹس کو جاری ہونے کے صرف اتنا رقبہ لاک کرین گین جو کہ معززعدالت نے بتایا ہو گا۔۔

IMG-20240924-WA0292

پنجاب بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹر مین تعینات ریونیو آفیسر کو محکمانہ ہدایت جاری کر دی گی ہے جسکے تحت کسی عدالتی مقدمہ مین حکم امتناع/ سٹیٹس کو جاری ہونے کے صرف اتنا رقبہ لاک کرین گین جو کہ معززعدالت نے بتایا ہو گا۔۔کیونکہ اراضی ریکارڈ سنٹر مین وطیرہ بن چکا ہے کہ اگر ایک مقدمہ مین مدعی نے مدعا الہیھم پر سٹے آرڈر صرف دو کنال کی حد تک لگایا ہے اور اس کھیوٹ مین مدعاالھیم کی ٹوٹل اراضی دس کنال ہے تو اراضی سنٹر کا عملہ یا تو تمام کھیوٹ بلاک کر دیتا تھا یا مدعاالھیم کا ٹوٹل رقبہ یعنی دس کنال کو بلاک کر دیتا تھا۔اب صرف رقبہ بلاک وہ کرنا ہے جو عدالت طے کرے گی یعنی جس اراضی کا تنازعہ چل رہاہے اگر تنازعہ دو کنال کا ہے تو صرف دو کنال رقبہ لاک ہو گا اور اگر تنازعہ پانچ کنال کا ہے تو رقبہ لاک پانچ کنال ہو گا اور مزیر اراضی سنٹر کا ریوینیو آفیسر سا یل کی درخواست پر لکھ کر ماتحت عملہ کو ہدایت کرے گا کہ سٹے آرڈر کو کیسے اور کتنا رقبہ لاک کرنا ہے۔۔۔اب اس عذاب سے جان ختم ہو گی ہے کی سٹے آتے ہی تمام کھیوٹ لاک اور مدعاالھیم کا سب رقبہ لاگ کر دیا جاتاتھا اور اس کے باوجود اگر ریونیو آفیسر تنازعے والے رقبہ سے زاہد رقبہ بلاک کرتا ہے