October 28, 2026

تتلیوں کے بھی خواب ہوتے ہیں

20240918_224928

تتلیوں کے بھی خواب ہوتے ہیں
کہہ تو رہے ہو
بیٹھ گءی ہے
تیرے کالر پہ اک تتلی
تتلی کے بھی خواب ہوتے ہیں
خوابوں کی مالا کے موتی
ہر رنگ کا سپنا ہوتے ہیں
برج العرب کے جتنا اونچا
خوابوں کا کوہسار ہوتے ہیں
خواب تو جیون دھارا ہیں
خواب تو اپنے یار ہوتے ہیں
اور خوابوں کی کہکشاں پہ پاوں رکھے ہوے ہم سب رواں دواں ہیں بھلے چھوٹے ہیں یا بڑے بھلے امیر ہیں یا غریب بھلے پورپ میں ہیں یا پچھم میں بھلے گورے ہیں یا کالے
اپنے اپنے خوابوں کی گٹھڑیاں
اٹھاے، الٹے سیدھے، چلتے، لڑکھڑاتے، ٹھوکر کھاتے، بھاگتے دوڑتے ہم اپنے اپنے طور پہ اپنے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہوے صبح سے شام اور پھر دوبارہ صبح سے شام کر دیتے ہیں ہاں کن کا اشارہ اسی خالق کائنات کے پاس ہے جس کے قبضے میں کل عالم کے تمام جانداروں کی جان ہے اور جس کی تقسیم بڑی منصفانہ اور بے عیب ہے.
اس کی تقسیم منصفانہ ہے
میرے مالک کی
میرے مولا کی
ایک ایک ریت منصفانہ ہے
ایک ایک چیز منصفانہ ہے
اس کی تو ہر ادا محبت ہے
اور تفریق منصفانہ ہے
تو اللہ پاک نے جس کو دیا جس جس کو عطا کیا بڑے حساب اور بڑے انصاف سے عطا کیا اب حساب کتاب کرنے والے بھلے جیسے مرضی الٹے سیدھے ہو کے حساب کتاب کرتے پھریں حسد کی کالک سے اپنے دل اور چہرے سیاہ بلکہ کالے سیاہ کرتے پھریں
دینے والے کی سوچ اور پہنچ تک رسائی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ہاں دعا مانگنے والے اور سچے دل سے دعا مانگنےوالے اپنی تقدیر کو بدلوانے فن سے بھی خوب آشنا ہوتے ہیں. اسی لیے سیانے کہتے رہے ہیں کہ دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے.
بڑے بڑے محل، بڑی بڑی گاڑیوں، دولت کے انبار دل کو تو بہت لبھاتے ہیں لوگوں کی رال بھی بہت ٹپکاتے ہیں، دنیا وی قتل و غارت اور لوٹ مار کی بڑی وجہ بھی دولت کی یہ غیر منصفانہ تقسیم ہی ہے مگر سچ ہے اور بہت بڑی تلخ حقیقت بھی کہ یہ مال و زر جس نے دنیا کے سکون کو درہم برہم کر رکھا ہے وہ اسی دنیا کا ہی مال ہے بھلے کسی کا تخت طاوس ہے یا ککھوں کی جھگی اسی دنیا کا مال ہیں آنکھ بند ہونے پہ سواے انسان کے اعمال کے اس کے ساتھ کسی شے نے نہیں جانا.
مگر یقین مانیے ہم بھلے دولت کے انبار بھی اکٹھے کر لیں نہ ہی دولت کے انبار اکٹھے کرنے کی ہوس ختم ہو گی نہ ہی ہم دولت کے یہ انبار ہم اپنے ساتھ لے جا پاییں گے ہاں مگر ہمارے اعمال اور ہمارے کرم ہمارے ساتھ سایے کی طرح ہمیشہ ساتھ رہیں گے.

کھلے ہاتھ سے صدقہ خیرات کا بڑا مقام ہے اور مستحقین تک صدقے خیرات پہنچانا ایک ہمیشہ رہنے والی نیکی ہے. اور سوال کرنے والے کا سوال پورا کرنا جب وہ اللہ کے نام پہ سوال کرے اس کی حاجت روای کی اپنی شرعی حیثیت ہے. اور خواب دیکھنے والی آنکھوں والے ہی ان کی تعبیریں پانے کے لیے اپنے پیروں کو لہو لہان کرنے کے فن سے آشنا ہوتے ہیں اور خوابوں کی مکمّل تعبیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شکل میں ہم سب کے سامنے موجود ہے. اقبال کے خواب کو حقیقت کا رنگ دینے والے جناح مسلمانوں کی زبوں حالی کو متحدہ ہندوستان میں بڑی اچھی طرح بھانپ چکے تھے اور شکر ہے کہ ان عظیم لیڈروں کی سربراہی میں ہم آج اپنے آزاد دیس کے آزاد باسی ہیں یہ اور بات کہ اپنوں کی سیاست اور غیروں کی شرارت سے ہمارا نا قابلِ تلافی جانی و مالی نقصان ہوا اور یہ نقصان خوابوں کو پایہ تکمیل پینچانے کا نذرانہ تھا.
خواب دیکھے ہیں تو قیمت بھی چکای ہے ناں
خواب ہم جیسوں کو رستے سے ہٹا دیتے ہیں
یا پھر
آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں
اپنے سب خوابوں کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں
خواب تو بچہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ کس سکول جاے گا کیسے کپڑے پہنے گا کون سے کھلونوں سے کھیلے گا بڑا ہو کے کیا بنے گا وغیرہ وغیرہ
اچھا کھانا پینا، پہننا اوڑھنا اچھے گھر میں رہنا ہر ذی ہوش انسان کا خواب ہوتا ہے جسے سیاسی لیڈروں نے روٹی، کپڑا اور مکان کے خواب کی صورت عوام کو دکھا کے ان کے ووٹوں سے کھلواڑ کیا. سکینہ بچپن ہی سے ماموں زاد سے منسوب تھی مگر ہوش سنبھالنے پہ سکینہ نے واشگاف الفاظ میں اپنے گھر والوں کو اپنے چچا زاد سے وابستگی کے بارے میں بتا کے ماموں زاد کو رد کر دیا پڑھے لکھے والدین نے سکینہ کے خوابوں کو تعبیر دینے میں ذرا بھی حیل و حجت سے کام نہ لیا ہاں رشتہ داری کو قربان کرنا بہتر سمجھا گیا تو خواب دیکھیے اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے سرکرداں رہیے کیونکہ خواب تو ان تیتلیوں کے بھی ہوتے ہیں جو نرم و نازک ہوتی ہے، حسین ہوتی ہیں جو باغوں میں رنگ برنگے پھولوں پہ اٹھلاتی پھرتی ہیں چہچہاتی پھرتی ہیں اور جو اچانک ہی کسی چلبلے بچے کی بچگانہ خواہش پہ جان کی بازی ہار جاتی ہیں. مگرپھربھی خواب دیکھیے کیونکہ خواب جینے کی آس ہوتے ہیں
تتلیوں کے بھی خواب ہوتے ہیں
تتلیوں کے بھی خواب ہوتے ہیں
خواب جیون کی آس ہوتے ہیں
کسی مٹیالی کٹیا میں اک دیا
کسی اندھے کی آس ہوتے ہیں
کسی پیاسے کی پیاس ہوتےہیں
خواب ساروں کو راس ہوتے ہیں
بھلے جتنے اداس ہوتے ہیں
تتلیوں کے بھی خواب ہوتے ہیں
بند آنکھوں میں آس ہوتے ہیں
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
naureendoctorpunnam@gmail,com