October 15, 2026

خاموشی توڑنے والا نام — شیخ مسعود ظہیر، حق کی للکار اور عوام کی آخری امید

IMG-20260328-WA0251

خاموشی توڑنے والا نام — شیخ مسعود ظہیر، حق کی للکار اور عوام کی آخری امید
میلسی کی مٹی گواہ ہے کہ یہاں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے ہیں جو وقت کے ظالم دھارے کے آگے جھکنے کے بجائے سینہ تان کر کھڑے ہوئے۔ انہی نڈر اور بے باک شخصیات میں ایک نام شیخ مسعود ظہیر کا ہے، جو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک آواز، ایک جدوجہد اور ایک انقلاب کا استعارہ بن چکے ہیں۔
بطور جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، وائس چیئرمین میلسی پریس کلب رجسٹرڈ عیدگاہ روڈ، سینیئر نائب صدر انجمن بہبود مریضاں اور سرپرست اعلیٰ مرکزی تنظیم تاجران، انہوں نے ثابت کیا ہے کہ عہدے صرف کرسی نہیں بلکہ ذمہ داری ہوتے ہیں — اور یہ ذمہ داری وہ پوری شدت، ایمانداری اور بے خوفی کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔
جب شہر میں ظلم بڑھتا ہے، جب غریب کی آواز دبائی جاتی ہے، جب تاجر پریشان اور مریض بے سہارا ہوتا ہے — تو ایک آواز بلند ہوتی ہے، اور وہ آواز شیخ مسعود ظہیر کی ہوتی ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جو صرف تصویریں بنواتے ہیں، بلکہ وہ میدان میں اتر کر لڑتے ہیں، بولتے ہیں اور حق چھین کر دلانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
آج کا دور مفاد پرستی، خاموشی اور بزدلی کا دور بن چکا ہے، مگر شیخ مسعود ظہیر نے اس خاموشی کو چیلنج کیا ہے۔ ان کی سوچ اور نظریہ خود اس شعر میں جھلکتا ہے:
“ہے سیاست سے تعلق تو فقط اتنا ہے،
کوئی کم ظرف میرے شہر کا سلطان نہ ہو”
وہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ:
“حق مانگا نہیں جاتا، چھینا جاتا ہے — اور ہم یہ حق لے کر رہیں گے!”
اسی جدوجہد کی تصویر ایک اور شعر میں یوں نظر آتی ہے:
“میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر،
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا”
ان کی سیاست میں دکھ ہے، ان کے لہجے میں عوام کا درد ہے، اور ان کے الفاظ میں وہ سچائی ہے جو سیدھا دل پر اثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک رہنما نہیں بلکہ مظلوموں کا سہارا اور ناانصافی کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن چکے ہیں۔
آج میلسی کا ہر باشعور فرد یہ ماننے پر مجبور ہے کہ:
“یہ صرف الفاظ نہیں، یہ ایک سچی آواز ہے — جو دل سے نکلتی ہے اور دلوں تک پہنچتی ہے!”