October 15, 2026

دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ وہ نہیں جو زیادہ ممالک میں جا سکے — طاقتور ترین پاسپورٹ وہ ہے جس پر کوئی اصول لکھا ہو۔

Screenshot_2026-03-28_003611

دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ وہ نہیں جو زیادہ ممالک میں جا سکے — طاقتور ترین پاسپورٹ وہ ہے جس پر کوئی اصول لکھا ہو۔

دنیا میں 195 ممالک ہیں، ہر ملک کا اپنا پاسپورٹ ہے، اپنی طاقت ہے، اپنی سفارت ہے — لیکن صرف چند ممالک ایسے ہیں جن کے پاسپورٹ پر کوئی اصول لکھا ہوا ہے۔ پاکستان انہی خاص ممالک میں سے ایک ہے جس کے سبز پاسپورٹ پر سرکاری طور پر درج ہے کہ یہ دستاویز اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے قانوناً درست ہے — اور یہ جملہ 1948 سے آج تک نہیں بدلا۔

پاکستان نے اسرائیل کو کبھی بھی ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا — یہ فیصلہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ 1947 میں جب اقوام متحدہ میں فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ پیش ہوا تو پاکستان نے اس کے خلاف ووٹ دیا — اور اُس دن سے آج تک 76 سال گزر گئے، حکومتیں بدلیں، فوجی آئے، جمہوریت آئی — مگر یہ موقف ایک انچ نہیں ہلا۔

دنیا کے 57 اسلامی ممالک میں سے آج صرف مٹھی بھر ایسے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہوا ہے — باقی یا تو کھل کر تسلیم کر چکے ہیں یا خاموشی سے تعلقات استوار کر چکے ہیں۔ مصر نے 1979 میں، اردن نے 1994 میں، یو اے ای اور بحرین نے 2020 میں “ابراہیم معاہدے” کے تحت اسرائیل کو باضابطہ تسلیم کیا — لیکن پاکستان نے امریکی دباؤ کے باوجود، معاشی مراعات کے باوجود، سفارتی تنہائی کے باوجود — انکار کیا۔

یہ انکار کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا — یہ ایک قانونی، اخلاقی اور سفارتی موقف تھا جو فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر مبنی تھا۔ 1948 میں جب اسرائیل کے قیام کے وقت سات لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نکالا گیا — جسے فلسطینی “النکبہ” یعنی “المیہ” کہتے ہیں — تب پاکستان نے طے کر لیا کہ وہ اس ناانصافی کو کبھی قانونی جواز نہیں دے گا۔

آج کی تاریخ میں دنیا کے Henley Passport Index کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کمزور ترین پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے — صرف 33 ممالک بغیر ویزے کے پاکستانیوں کو داخلہ دیتے ہیں — لیکن یہ کمزوری معاشی ہے، اخلاقی نہیں۔ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ وہ نہیں جو زیادہ ممالک میں جا سکے — طاقتور ترین پاسپورٹ وہ ہے جس پر کوئی اصول لکھا ہو۔

امریکہ نے پاکستان پر بارہا دباؤ ڈالا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے — خاص طور پر 2020 کے بعد جب ابراہیم معاہدوں کی لہر چلی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عرب ممالک کو ایک ایک کر کے اس معاہدے میں شامل کیا — سعودی عرب پر بھی دباؤ تھا، پاکستان پر بھی۔ لیکن اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے برملا کہا کہ جب تک فلسطین کو آزادی نہیں ملتی، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا — اور یہ بیان انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں پوری دنیا کے سامنے دیا۔

فلسطین کا مسئلہ پاکستان کے لیے کبھی “سیاسی مصلحت” کا معاملہ نہیں رہا — یہ ہمیشہ ایمان، اخلاق اور انصاف کا معاملہ رہا ہے۔ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے 1948 میں کہا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف عرب مسئلہ نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے — اور اس قول کی گونج آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سنائی دیتی ہے۔

غزہ پر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 50,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، 17,000 سے زائد بچے اس جنگ میں جان سے گئے — اور جب اقوام متحدہ میں فائربندی کی قرارداد آئی تو امریکہ نے ویٹو کیا، لیکن پاکستان نے فلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ سبز پاسپورٹ کی اسی روح کا عملی اظہار تھا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے اس موقف کی دنیا بھر میں عزت کی جاتی ہے — افریقی ممالک، لاطینی امریکہ، اور مسلم دنیا میں پاکستان کو اس لیے احترام سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس نے طاقت کے سامنے نہیں جھکا۔ جب بڑے بڑے ممالک مصلحت کی سیاست کرتے رہے، پاکستان نے ضمیر کی سیاست کی۔
سبز پاسپورٹ — کمزور سہی، مگر باوقار۔ اس پر لکھا وہ جملہ صرف سیاہی نہیں — یہ 76 سال کی وفا ہے، لاکھوں شہید فلسطینیوں سے کیا گیا عہد ہے، اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیا، چاہے اس کی کتنی بھی قیمت چکانی پڑی۔