October 28, 2026

نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا 21واں مرکزی کونسل سیشن آج لاہور میں منعقد ہوا۔ طلباء اور مزدوروں نے ہزاروں کی تعداد نے پروگرام میں شرکت کی۔ کونسل سیشن میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نئی قیادت کا اعلان کیا گیا۔ نئی قیادت میں فیض اللہ کو مرکزی صدر، اشبان

IMG-20240921-WA0122(1)

نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا 21واں مرکزی کونسل سیشن آج لاہور میں منعقد ہوا۔ طلباء اور مزدوروں نے ہزاروں کی تعداد نے پروگرام میں شرکت کی۔ کونسل سیشن میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نئی قیادت کا اعلان کیا گیا۔ نئی قیادت میں فیض اللہ کو مرکزی صدر، اشبان عوضم کو مرکزی نائب صدر، عزیز اللہ کو مرکزی جنرل سیکریٹری، محبوب علی کو مرکزی جوائنٹ سیکریٹری، حسن ناصر کو پریس اینڈ پبلیکیشن سیکریٹری، علی خان کو اسسٹنٹ پریس اینڈ پبلیکیشن سیکریٹری، ذیشان خان کو مرکزی فنانس سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ اس کے علاوہ عبدالقدیر کاکڑ، مشتاق سندھی، سرباز خان اور شمس الرحمان کو مرکزی مجلس عاملہ کا رکن منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان مزدور محاذ کے جنرل سیکرٹری چوہدری شوکت، لیبر قومی موومنٹ کے صدر رانا طاہر، مرکزی چیئرمین متحدہ لیبر فیڈریشن چوہدری یعقوب، پاکستان انقلابی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر رمضان اور پاکستان انقلابی پارٹی کے چیئرمین مشتاق احمد سلطان نے مہمانان خصوصی پروگرام میں شرکت کی۔
مقررین نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نئی قیادت کو مبارکباد دی اور کہا کہ نیشنل اسٹودنٹس فیڈریشن کی 7 دہائیوں سے زائد جدوجہد کی تاریخ پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مختلف ادوار میں نکلے انقلابیوں نے پاکستان میں ترقی پسند تحریک کو ہمیشہ قیادت فراہم کی ہے اور آج بھی نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارواں کو دیکھ کر پورے پاکستان کے ترق پسندوں کے حوصلے بڑھے ہیں۔ عوام کی محرومیاں اور غربت آج اپنے عروج پر ہیں، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ بجلی کے بلوں کو دیکھ کر محنت کش عوام کو دل کے دورے پڑ رہے ہیں مزید برآں بلوں کی ادائیگی میں ایک دن کی تاخیر پر بھی ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔ ان حالات میں پاکستان میں موجودہ معاشی و سیاسی گراوٹ کا واحد حل عوامی جمہوری انقلاب ہے۔ مقررین نے اس موقع پر پاکستان انقلابی پارٹی کی جدوجہد کو سراہا۔ لیبر قومی موومنٹ اور پاکستان مزدور محاذ کے قائدین نے پاکستان انقلابی پارٹی کے ساتھ مل کر جدوجہد کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ نو منتخب قائدین نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اس موقع پر پاکستان میں طلباء مسائل کے حل اور مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ این ایس ایف کی جڑت بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پر طلباء میں نظریاتی شعور دینے کا تاریخی فرض ایک بار پھر آن پڑا ہے۔ طلباء کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ آج پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بھرمار نے طلباء میں میرٹ کی اہمیت کو ختم کر دیا ہے۔ غریب کلاس سے تعلق رکھنے والے طلباء اچھے نمبروں کے باوجود تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ امیر والدین کی اولادیں کمتر نمبروں کے باوجود اپنی مرضی کی ڈگریاں لے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ کی بجائے پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کو بھی پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر کے تعلیمی نظام کو مزید تباہی کی طرف دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اسی طرح ہاسٹلز کی کمی اور کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طرف سے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی نے طلباء کو مزید مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نئی قیادت نے اس بات کا اظہار کیا کہ طلباء کے تمام مسائل کے حل کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔ طلباء یونین پر پابندی کی وجہ سے ملک بھر میں طلباء سیاسی شعور سے بیگانہ ہیں۔ جو کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کی موقع پرست اور کرپٹ قیادتوں کا مطمع نظر ہے۔ یہ عوام کو شعور سے دور رکھ کر اپنے مذموم عزائم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ نیشنل اسٹودنٹس فیڈریشن طلباء یونینوں پر پابندی کے فوری خاتمہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس حوالے سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی