October 10, 2026

کراچی (اسٹاف رپورٹ) معروف اینکر ڈاکٹر دانش کی تحقیق اور مطالعہ کے مطابق ابتک پاکستان پیپلز پارٹی

IMG-20260131-WA0219(5)

کراچی (اسٹاف رپورٹ) معروف اینکر ڈاکٹر دانش کی تحقیق اور مطالعہ کے مطابق ابتک پاکستان پیپلز پارٹی کے 17 سالہ ادوار میں قومی خزانہ سے کم و بیش 28 تا 32 ہزار ارب روپے ترقیاتی امور کیلئے ملے۔ کیا کراچی سمیت سندھ بھر کے شہروں قصبوں دیہاتوں اور گاؤں میں ترقیاتی امور مکمل ہوتے دیکھے گئے۔ ان 17 سالوں میں سندھ بھر کی سیاسی جماعتوں کا کردار کیا رھا ھے۔ کراچی کے معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ کراچی الگ ھونے سے کوئی بہتر تبدیلی نظر نہیں آئیگی کیونکہ جو سیاسی جماعتیں کراچی کو الگ کرنا چاہتی ہیں انکے اپنے کردار اور ماضی کے ادوار کیسے رھے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ سندھ کی ترقی کیلئے لازم ھے کہ سندھ کے نظام حکومت نظام انتظامیہ نظام جمہوریت اور نظام عدل کو متوازن مستحکم اور مضبوط ہونا شرط ھے۔ آپس کی چپکلشیوں بےجا بحث اور غیر سنجیدگی سے معاملات اور مسائل قطعی حل نہیں ہونگے۔ حالیہ دنوں میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک بیان داغا کہ تین ماہ کے اندر کراچی کی تمام کی تمام شاہراہیں اسلام آباد جیسے ہونی چاہئیں لگتا یوں ھے کہ آصف علی زرداری اپنے ساتھ کوہ قاف کے جنات کا لشکر ساتھ لائیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب اہل قابل ذہین ماہر لوگوں کی خدمات بناء تعصب بناء عصبیت بناء لسانیت کے لی جائے تو انکی خدمات سے یہی کراچی اور اندرون سندھ کے شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شامل ہوسکتے ھیں اس کیلئے انہیں خود بہتر راستہ استوار کرنا ھوگا اور آئین میں ایکبار پھر تبدیلی کرکے کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کرکے اہل قابل ذہین ماہر لوگوں کو جابس اور منصب اعلیٰ پر فائز کرنا ہوگا۔ بینظیر بھٹو کی تمام اولادیں برطانیہ کی بہترین درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرچکی ہیں کیا وہ بلخصوص بلاول بھٹو اہل قابل ذہین ماہر کی اہمیت افادیت ضروریت کو نہیں سمجھتے یقیناً ہاں تو پھر مخالف سمت کیوں اختیار کی ہوئی ہیں۔ سندھ بھر کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی اسی ڈگر یعنی عدم توازن شفارش اقربہ پروری کی عادی ہوچکی ہیں۔ کراچی کے معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ ہوس دولت، عیش و تعیوش ان سب کو سدھارنے نہیں دیگا یہ سلسلہ یونہی جاری رہیگا کیونکہ کوئی ایک اُجلا نہیں ہر ایک داغدار ھے رہی سندھ کی عوام بشمول کراچی انہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ جرائم کرائم بدعنوانی لاقانونیت غنڈہ گردی بدمعاشی بھتہ خوری قبضہ گری قتل و غارت اور فتنہ و فساد کا مقابلہ کرسکیں کیونکہ ریاست سندھ اور حکومت سندھ ان منفی عوامل اور منفی عناصر کو خود ہی چلا رہی ھے اب سوائے صبر و برداشت یا ملک کو خیرآباد کیئے بغیر کچھ چارہ نہیں ورنہ بھرپور انداز سے عوام خود فیصلہ صادر کردیں گے بناء کسی سیاسی جماعت، سیاسی پلیٹ فارم، سیاسی گروہ اور مذہبی تنظیموں کے کیونکہ یہ سب کے سب منافق فاجر و فاسق ہوچکے ہیں۔ ان سب میں نہ دین رھا ھے نہ ایمان یہ ہوس دنیا کے پجاری بن چکے ہیں۔ شیطان و دجال کی طرح ان میں جھوٹ دھوکہ فریب بسا ھوا ھے اس نظام کو اب آنے والا وقت ہی سدھارے گا۔ تب تک ملک پاکستان اور سندھ بھر میں یونہی چہماگوئیاں جاری رہیں گی۔