عمرکوٹ رپورٹ/ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی ضلع عمرکوٹ میں مختلف جگہوں پر اے مخیتاروں کے
عمرکوٹ رپورٹ/ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی
ضلع عمرکوٹ میں مختلف جگہوں پر اے مخیتاروں کے چھاپہ مار کارروائی کے باوجود کوئی عمل نہیں ہو رہا جب کہ جرمانہ عائد بھی کئے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو پا رہا سوالیہ نشان موجود ہے پوچھتا ہے نیشنل پریس کلب سامارو
عمرکوٹ ضلع کے مختلف شہروں جیساکہ سامارو کنری پتھورو آور دیگر شہروں قصبوں میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کا طوفان آگیا ہے۔ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ، سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔اس سلسلے میں نیشنل پریس کلب سامارو رجسٹرڈ کی ٹیم نے سامارو کا بھی وزٹ کیا تو ان کو سامارو اس ٹائم ایک ایسا اسٹال بھی دیکھا جوکہ سامارو میڈیا کاؤنسل صدر صحافی رضوان عطاری اور نائب صدر بادر علی بروہی کی جانب سے اپنی مدد آپ مناسب ریٹ پر اشیاء پر عوام کی کی خدمات میں شانہ باشانہ کھڑے ہیں کی اس اسٹال پر اے سی سامارو سنجے کمار ترکیو اور ٹاؤن کمیٹی چیئرمین وڈیرہ زولفقار علی خاصخیلی نے بھی بھی وزٹ کیا اور ان کے حوصلے کی داد دی ۔۔
باقی دیگر شہر کے مختلف بازاروں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ٹماٹر، پیاز، آلو، بھنڈی، ہری مرچ سمیت بیشتر سبزیوں کی قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں جب کہ کیلے، سیب، کھجور اور دیگر پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل ہی تاجروں نے من مانی قیمتیں مقرر کر رکھی ہیں لیکن ضلعی انتظامیہ مکمل طور پرائس کنٹرول کرنے میں ناکامی پر بے خبر یا خاموش نظر آتی ہے۔
عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ بازاروں میں نہ تو سرکاری قیمتوں کی فہرست نظر آتی ہے اور نہ ہی کسی اہلکار کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ دکاندار اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کر رہے ہیں جبکہ غریب اور دیہاڑی داروں کے لیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر بازاروں کا دورہ کرے، قیمتوں کو کنٹرول کرے، سرکاری ریٹ لسٹیں جاری کر کے ان پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔