October 4, 2026

60 سالہ حکیم بابر صاحب کی ایک دوشیزہ سے پسند کی شادی کے چرچے*

IMG-20260224-WA0234

*60 سالہ حکیم بابر صاحب کی ایک دوشیزہ سے پسند کی شادی کے چرچے*

حکیم بابر صاحب کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلے اس حسین دوشیزہ کو اپنا دل دے دیا، پھر آئی لو یو بولا اور چُھٹتے ہی شادی کی پیشکش کر دی، جسے محترمہ نے نجانے کیا سوچ کر قبول کر لیا-

اب حکیم بابر صاحب یہ گیان بانٹتے پھرتے ہیں کہ اسلام پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے، محبت کی شادی انسان کا حق ہے، اس سے دو خاندان جُڑتے ہیں اور نکاح کو فروغ دینا چاہیے وغیرہ وغیرہ

بھئی اللہ نصیب کرے حکیم صاحب اور حسین دوشیزہ کا ساتھ جنم جنم ساتھ چلے اور خاص طور پر سفید عروسی لباس میں ملبوس دلہن کو خدا نہ کرے کسی بدنظر کی نظرِ بد لگے، نیز حکیم صاحب کے حسنِ ذوق کی داد بھی دیے چلتا ہوں مگر۔۔۔

مگر یہ کہ ہمیں کبھی بھی میاں اور بیوی کی طبعی عمروں میں اس قدر طوالت کو ترویج دینی چاہیے، مجھے ذاتی حیثیت میں ہمیشہ حیرانی ہوتی ہے کہ جب لوگ بزعم بتاتے ہیں کہ فلاں 40 سالہ مرد نے 18 سالہ لڑکی سے شادی کر لی یا 60 سالہ مرد نے 20 سالہ لڑکی سے شادی کر لی-

دیکھیے یہ شاید مناسب یا حلال بھی ہو گا مگر مجھے انتہائی گِھن آتی ہے ایسے بندھنوں سے، یہ ناانصافی اور بددیانتی ہے، پوچھیے کیسے؟ یہ نکاح کی روح کے خلاف ہے، وہ اس طرح کہ نکاح ایک پاکیزہ بندھن ہے جو زندگی بھر چلنا ہوتا ہے اور جسے جاری کرنے کا مقصد نسلِ انسانی کی بقا ہے۔۔۔

سو ہر وہ بندھن جس کا مقصد نسلِ انسانی کی بقا یا انسانیت کا پالن کرنا نہ ہو محض شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے باہمی معاہدہ ہے، جس میں اکثر دوسرا فریق کسی مجبوری کے تحت یہ سب کرتا ہے-

ویسے تو میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی، ہمیں کیا لگے ان سب سے مگر ایسے عجیب الخلقت رشتوں کی ترویج اور اشتہاربازی سے مجھ ایسے کنواروں کا کلیجہ، دل، معدہ، دماغ حتی کہ سب کچھ سڑ بُھن جاتا ہے، میں کبھی ان کی حمایت نہیں کروں گا :-