رپوٹ عبد العزیز شیخ ٹھٹہ کے قریب گاؤں سومارو گلمنڈا کے رہائشی حیدر
رپوٹ عبد العزیز شیخ
ٹھٹہ کے قریب گاؤں سومارو گلمنڈا کے رہائشی حیدر علی ہالو اور جان ہالو نے ایوانِ صحافت پریس کلب ٹھٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے گاؤں کے بااثر وڈیرے عثمان ہالو اور اس کے بیٹے غلام رسول ہالو انہیں مسلسل ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
متاثرین کے مطابق ملزمان نے ان کی زرعی زمین کا پانی بند کر دیا جس سے فصلیں تباہ ہو گئیں اور وہ زمین کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے، جبکہ فروخت کی مکمل رقم بھی ابھی تک ادا نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اب ملزمان ان کے رہائشی پلاٹ، جہاں ان کا گھر قائم ہے، پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پلاٹ دینے سے انکار پر انہیں، ان کی والدہ اور نابینا بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کئی مرتبہ مکلی تھانہ میں فریاد لے کر گئے مگر کوئی قانونی کارروائی نہ ہو سکی کیونکہ ملزمان بااثر ہیں اور پولیس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں اور وہ انتہائی غریب و بے سہارا ہیں۔ انہوں نے مقامی بااثر شخصیات سے بھی انصاف کی اپیل کی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی، کیونکہ مخالف فریق طاقتور ہے اور فیصلے ماننے کو تیار نہیں۔متاثرین نے صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی، سیشن جج ٹھٹہ، ڈپٹی کمشنر ٹھٹہ اور ایس ایس پی ٹھٹہ سے اپیل کی ہے کہ انہیں بااثر افراد کے ظلم سے تحفظ فراہم کیا جائے، ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کر کے انہیں گرفتار کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
ٹھٹہ کے قریب گاؤں سومار ہالو گلمنڈا کے رہائشی حیدر علی ہالو اور جان ہالو نے ایوانِ صحافت پریس کلب ٹھٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے گاؤں کے بااثر وڈیرے عثمان ہالو اور اس کے بیٹے غلام رسول ہالو انہیں مسلسل ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
متاثرین کے مطابق ملزمان نے ان کی زرعی زمین کا پانی بند کر دیا جس سے فصلیں تباہ ہو گئیں اور وہ زمین کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے، جبکہ فروخت کی مکمل رقم بھی ابھی تک ادا نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اب ملزمان ان کے رہائشی پلاٹ، جہاں ان کا گھر قائم ہے، پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پلاٹ دینے سے انکار پر انہیں، ان کی والدہ اور نابینا بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کئی مرتبہ مکلی تھانہ میں فریاد لے کر گئے مگر کوئی قانونی کارروائی نہ ہو سکی کیونکہ ملزمان بااثر ہیں اور پولیس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں اور وہ انتہائی غریب و بے سہارا ہیں۔ انہوں نے مقامی بااثر شخصیات سے بھی انصاف کی اپیل کی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی، کیونکہ مخالف فریق طاقتور ہے اور فیصلے ماننے کو تیار نہیں۔متاثرین نے صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی، سیشن جج ٹھٹہ، ڈپٹی کمشنر ٹھٹہ اور ایس ایس پی ٹھٹہ سے اپیل کی ہے کہ انہیں بااثر افراد کے ظلم سے تحفظ فراہم کیا جائے، ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کر کے انہیں گرفتار کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔