پاکستان میں غریب اور کمزور ہونا جرم کیوں؟؟ چند ماہ پرانا لیکن سبق آموز واقعہ : گوجرانوالہ کے تھانہ
پاکستان میں غریب اور کمزور ہونا جرم کیوں؟؟ چند ماہ پرانا لیکن سبق آموز واقعہ : گوجرانوالہ کے تھانہ میں غریب اور کمزور ہونا جرم کیوں؟؟ چند ماہ پرانا لیکن سبق آموز واقعہ : گوجرانوالہ کے تھانہ کامونکی کی حدود میں کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا ، اسکا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں ۔ ایک بار یہ ہوا کہ انکے بیٹے کی اپنےکزن کے ساتھ لڑائی ہوگئی ، رشتہ داروں نے اسکے بیٹے پر پرچہ کرادیا پولیس اسے لے گئی ، اس بزرگ اور اسکی بیوی نے رشتہ داروں کی منت سماجت کی پاؤں پکڑے اور معاملہ رفع دفع ہو گیا صلح ہو گئی ، بس یہ جرم تھا اس خاندان کا ، ایک دو روز بعد رات بارہ بجے مقامی پولیس کا ایک تھانیدار مع چند اہلکار پرائیویٹ کار پر اس خاندان کے گھر آگئے ، مقصد یقینی طور پر دیہاڑی لگانا تھا ، گھر کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے اور اس بزرگ کومارنا شروع کردیا ، وہ ان سے بیٹے کے بارے میں پوچھ رہے تھے جو ہمسائے میں کسی شادی کی تقریب میں شریک تھا ، یہ بابا کچھ بتا ہی رہا تھا کہ پولیس والوں نےاس پر تھپڑوں گا۔لیوں کی برسات کردی ، یہی نہیں ایک نے اسکے سرمیں بٹ مارا اور انہیں چکر آگیا ، باپ کو بچانے بیٹیاں آئیں تو انہیں بالوں سے پکڑ کر ایک طرف دھکیل دیا گیا ، اسی اثنا میں پولیس والے اس بزرگ کی بیمار بیوی پر پل پڑے اسے ایسا زور کا دھکا دیا کہ وہ ایک طرف جاگری اور بے سدھ ہو گئی ، بیٹیاں اپنی مان کی طرف لپکیں مگر چند ہی لمحوں میں اس بزرگ خاتون کی سانسیں ختم ہو گئیں ، یہ دیکھ کر پولیس والے بدحواس ہو گئے اور بھاگ نکلے ۔۔۔۔۔اماں جی فوت ہو گئیں گھر میں کہرام مچ گیا ، سب سے چھوٹی بیٹی کو صدے سے غشی کے دورے پڑنے لگے اور یہ اگلے کئی روزتک بے سدھ پڑی رہی ۔۔۔۔۔ اس تحریر اور پوسٹ کا مقصد یہ کہ دہش۔ت گردوں اور اشتہاریوں کے ڈیرے پر پولیس کے ایسے چھا۔پے تو ماننے والی بات ہے مگر جوان بچیوں اور بوڑھے والدین کی چاردیواری کو اگر پولیس ایسے پامال کرے گی تو پھر معاشرے میں بغاوت ہی جنم لے گی ، باغی اور اشتہاری یا مفرور ہی پیدا ہونگے ۔۔۔ کاش سمجھنے والے اس بات کو سمجھ سکتے ۔۔۔۔