سکندرِ اعظم نے 326 قبلِ مسیح میں ملتان پر جب حملہ کیا تو اس وقت بھکر لیہ کروڑ منکیرہ چوبارہ کا علاقہ موجود تھا
سکندرِ اعظم نے 326 قبلِ مسیح میں ملتان پر جب حملہ کیا تو اس وقت بھکر لیہ کروڑ منکیرہ چوبارہ کا علاقہ موجود تھا
سندھ میں محمد بن قاسم(712 )کے دورِ حکومت میں انہوں نے ابو الاسود جہم بن زاہر سقفی کو سندھ کے شمالی علاقوں کو فتح کرنے کے لیے سپہ سالار مقرر کیا
انہوں نے دیپالپور (موجودہ بھکر، کروڑ اور منکیرہ) کو فتح کیا اور اس علاقے کا انتظام ایک کمانڈر احمد بن خریم بن عقبہ مدنی کے سپرد کیا، بعد ازاں یہ ذمہ داری گورنر شیخ حمید موسیٰ کو دی گئی
محمود غزنوی کے دور سے پہلے یہ علاقہ (ڈیرہ اسماعیل خان، لیہ اور بھکر) اموی، عباسی اور راجپوتوں کے زیرِ اقتدار رہا اور اس کا مرکز منکیرہ تھا۔
بھکر 1334ء میں بھی موجود تھا، جب مشہور سیاح ابنِ بطوطہ(1498) دریائے سندھ کے مشرقی کنارے سے گزر کر داجل کے قصبے پہنچا۔ بھکر پر مختلف قبائل نے حکومت کی جن میں لنگاہ، کلہوڑا، ہوت بلوچ، جسکانی بلوچ اور سدو زئی پٹھان شامل تھے۔
بعد ازاں مغل اور انگریز ادوار میں بھکر نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ بھکر اور منکیرہ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ظالمانہ دور کو بھی دیکھا۔ رنجیت سنگھ کے دور میں 1821ء میں لیہ، کروڑ اور بھکر کو لاہور کی حکومت کے ماتحت کر دیا گیا اور لالہ رتن چند کو اس بڑے علاقے کا واحد منتظم مقرر کیا گیا۔
بعد میں رتن چند کو تھل کے ایک جنگجو قبیلے، جسے بھڈوال کہا جاتا تھا، نے شکست دی جس کے نتیجے میں اسے معزول کر دیا گیا اور نرائن داس اروڑا کو نیا گورنر مقرر کیا گیا۔ وہ بھی ایک سخت گیر اور ظالم منتظم ثابت ہوا، اس لیے 1824ء میں اسے بھی برطرف کر دیا گیا۔
اسی دوران ملتان میں دو انگریزوں کے قتل کے بعد انگریز فوج نے براہِ راست ملتان پر قبضہ کر لیا۔ 1848ء میں لیہ، بھکر اور منکیرہ کے علاقے انگریزوں کے زیرِ اقتدار آ گئے۔ 1850ء میں لیہ اور بھکر کا انتظام کیپٹن ہولنگز (ڈی سی لیہ) کے سپرد کیا گیا۔
اس کے بعد کچھ عرصہ بھکر اور تحصیل منکیرہ کو ضلع جھنگ میں شامل کر دیا گیا 1853ء تا 1854ء کے دوران تحصیل منکیرہ کو ضلع شاہپور میں شامل کیا گیا اور بھکر کے باقی علاقے کو تحصیل دریا خان کے ساتھ ملا دیا گیا
1857ء میں مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد انگریزوں نے پورے برصغیر پر قبضہ کر لیا اور بھکر بھی برطانوی اقتدار میں آ گیا
انگریزوں سے وفاداری کے صلے میں بھکر کے درج ذیل قبائل کو سینکڑوں ایکڑ اراضی دی گئی جن میں: کوہاوڑ ، ڈھانڈلا، اترا، شاہانی اور چھینہ شامل ہیں
آج بھی ضلع بھکر کی سیاست کی باگ ڈور انہیں خاندانوں کے پاس ہے