پنجاب پولیس کا وہ انسپکٹر جو اشتہاری بن گیا اور چوہدری پرویز الٰہی کو وارننگ دی کہ چوہدری صاحب : سنبھل جاؤ میں آپ کے سر ہوں ۔۔۔۔وہ کیا حالات بنے کہ ارشد بھٹی تھانیداری کرتے کرتے اچانک اشتہاری بن گیا : ارشد بھٹی 2001 میں شیخوپورہ میں تھانیدار تعینات تھا اس وقت حکمران جماعت کے ایک وزیر نے ارشد بھٹی کو ایک ملزم کو کسی مقدمے میں بے گناہ کرنے کو کہا ، ارشد بھٹی نے انکار کیا تو اس سیاستدان نے ارشد بھٹی کے بھائی کو اغ۔وا کروا لیا اور اسے بدترین تش۔دد کا نشانہ بنایا نہ صرف یہ بلکہ ارشد بھٹی پر ایک ناجائز مقدمہ درج کروا کر اسے معطل کروا دیا ۔ اس ناانصافی نے ارشد بھٹی کے قانون کے رکھوالے سے مجرم بننے میں اہم کردار ادا کیا پھر ایک افسوسناک واقعہ ہوا ارشد بھٹی کا بھائی جسے اغ۔وا کیا گیا تھا اس کو ق۔ت۔ل کردیا گیا ۔کہا جاتا ہے کہ ارشد بھٹی کے بھائی کو لوہے کی بھٹی میں ڈال دیا گیا تھا جسکے بعد ارشد بھٹی کی بھابی شدت غم سے دل کے دورے سے انتقال کر گئی ،ان حالات میں کوئی آدمی بھلا چپ کیسے رہ سکتا ہے ارشد بھٹی نے خطرناک آتشیں ہتھیار خریدے اور بھر پور تیاری کے ساتھ مخالف سیاستدان کے ڈیرے پر دھاوا بول دیا اور دو بندے ق۔ت۔ل کردیے ۔ جسکے بعد یہ موقع سے فرار ہو گیا ۔ یہ جرائم کے ایک خوفناک باب کا آغاز تھا 302 کے اس کیس میں ارشد بھٹی نے اشتہاری ہو کر مشہور سابق پولیس افسر نوید سعید کے پاس پناہ لے لی جو خود اس وقت ایک اشتہاری تھا ، اب ان دونوں سابق پولیس افسران نے اپنے دشمنوں کو چن چن کر ما۔رنا شروع کردیا دونوں اکٹھے یہ جرائم کرتے رہے انکے دوست اور دشمن اب سانجھے ہو چکے تھے ،مفروری کے دنوں میں ارشد بھٹی کے مخالف سیاستدان نے اسکی زمین اور خالی گھر پر قبضہ کر لیا ۔جب ارشد بھٹی کے باقی دو بھائیوں نے اس ظلم پر مزاحمت کی تو انہیں بھی زندگی سے محروم کر دیا گیا ، اس کا بدلہ لینے کے لیے ارشد بھٹی نے مخالف فریق کے پانچ لوگوں کو ایک ساتھ بھرے بازار میں ق۔ت۔ل کیا ۔ اس دوران ارشدبھٹی اپنے مخالفین کا ساتھ دینے والے پولیس ملازمین کو بھی نشانہ بناتا رہا ۔ 2005 میں ارشد بھٹی نے اپنے مخالف سیاستدان کے بیٹے کو اغ۔وا کیا اور اسے اسی طرح بھٹی میں ڈال کر ق۔ت۔ل کردیا جیسے اسکے بھائی کو کیا گیا تھا ۔ لا۔ش کو اس سیاستدان کے گھر کے باہر پھینک دیا گیا ، اب ارشد بھٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مخالفین کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا تھا اسکی تلاش شروع کی گئی مگر وہ آسانی سے ہاتھ آنے والا نہ تھا اس دوران انسپکٹر نوید سعید ق۔ت۔ل ہوا تو ارشد بھٹی اپنے دوست کے قا۔تلوں پر چڑھ دوڑا اور انہیں چن چن کر نشانہ بناتا رہا 2007 میں ارشد بھٹی کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کردیا گیا اس دوران ارشد بھٹی کی زمینوں پر سرکار نے قبضہ کر لیا تو ارشد بھٹی نے اس وقت کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو ق۔ت۔ل کی دھمکی دے دی جس پر اسکی زمین کا قبضہ چھوڑ دیا گیا اسکی تلاش بدستور جاری تھی کئی پولیس مقابلے ہوئے جن میں ارشد بھٹی پولیس والوں کی زندگیوں سے کھیلتا رہا آخر کار 2007 میں ہی حکومت نے ارشد بھائی کا قصہ ختم کرنے کا حکم جاری کیا ، بڑا آپر۔یشن پلان کیا گیا ، پولیس کی بہت بڑی نفری نے اس آپر۔یشن میں حصہ لیا ، ارشد بھٹی کی مخبری کروائی گئی اور ایک روز اسکو گھیر لیا گیا ، جوابا ارشد بھٹی مقابلے پر اتر آیا ، کئی گھنٹے فائیرنگ ہوتی رہی اس بڑے مقابلے میں پولیس کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا مگر آخر کار ارشد بھٹی کو بھی اسکے ساتھیوں سمیت اسی مقابلے میں پار کردیا گیا ، یوں ناانصافی کے نتیجے میں کھلنے والاجرائم کا یہ خوفناک باب بند ہوا ۔
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]